کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے۔
حدیث نمبر
4904
حَدَّثَنَي إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَةَ أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بِهَذَا وَقَالَ تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ فَرَدَّتْهَا وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلِّقْهَا وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَعْتِبُ عَلَی ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلَا خُلُقٍ وَلَکِنِّي لَا أُطِيقُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ
اسحاق واسطی، خالد، خالد حذاء، عکرمہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ عبد ﷲ بن ابی اوفی کی بہن نے اس کو روایت کیا اور بیان کیا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس کا باغ واپس کردے گی؟ اس نے کہا ہاں! چناچہ اس کو باغ واپس دے دیا اور اس کو ایک طلاق دے دی، ابراہیم بن طہمان نے بواسطہ خالد، عکرمہ، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے طلقھا (اس کو طلاق دے دی) کا لفظ بیان کیا اور ابن تیمیہ سے بواسطہ عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ عنہما منقول ہے، انہوں نے کہا کہ ثابت بن قیس کی بیوی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول ﷲ! ثابت سے اس کی دینداری اور اخلاق کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں، لیکن میں اس کے ساتھ رہ نہیں سکتی، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس کا باغ واپس کردے گی، اس نے جواب دیا ہاں!
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment