کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
سورۃ بقرہ یا سورۃ فلاں فلاں کہنے میں کوئی حرج نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر
4685
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ حَدِيثِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَائَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَی حُرُوفٍ کَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّی سَلَّمَ فَلَبَبْتُهُ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَکَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُکَ تَقْرَأُ قَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ کَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُکَ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقُودُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَإِنَّکَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَالَ يَا هِشَامُ اقْرَأْهَا فَقَرَأَهَا الْقِرَائَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ اقْرَأْ يَا عُمَرُ فَقَرَأْتُهَا الَّتِي أَقْرَأَنِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَئُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عروہ، مسور بن مخرمہ وعبدالرحمن بن عبدالقاری، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہشام بن حکیم بن حزام کوسورۃ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، میں نے غور سے جو ان کا پڑھنا سنا تو وہ اس طر یقے سے پڑھ رہے تھے کہ میں نے کبھی اس طرح نہیں پڑھا تھا، میں نے سوچا کہ نماز ہی میں اس کی درگت بناؤں، مگرمیں نے نماز ختم کرنے کا انتظارکیا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں ان کے گلے میں چادر ڈال دی، پھر میں نے پوچھا کہ یہ سورت تم کوکس نے پڑھائی ہے، جومیں نے ابھی سنی ہے، وہ بولے اس سورت کی مجھے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے، میں نے کہا تم جھوٹے ہو، ﷲ کی قسم! یہ سورت جومیں نے تم سے سنی مجھے بھی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے (مگرتم اور طرح پڑھ رہے ہو) میں انہیں کھینچتا ہوا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! ان کو میں نے سورت فرقان پڑھتے ہوئے ایسے طریقہ پر سنا ہے کہ میں نے اس طریقے پر نہیں پڑھی، حالانکہ مجھے آپ نے (خود) سورت فرقان پڑھائی ہے، آپ نے فرمایا اے ہشام! سورت فرقان سناؤ، انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے سنا تھا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرح (یہ) سورت اتری ہے، اس کے بعد فرمایا اے عمر! تم بھی پڑھو، میں نےبھی اسی طرح پڑھنا شروع کیا، جس طرح آپ نے مجھے پڑھایا تھا، آپ نے فرمایا یہ سورت اسی طرح اتری ہے، اس کے بعد آپ نے فرمایا قرآن شریف سات قرائتوں میں اترا ہے، تم جوآسانی سے پڑھ سکو، پڑھو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment