کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرچ کرنے کا بیان
باب
تنگدست کا اپنے اہل وعیا ل کی ذات پر خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر
4986
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلَکْتُ قَالَ وَلِمَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَی أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَيْسَ عِنْدِي قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا أَجِدُ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ قَالَ هَا أَنَا ذَا قَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا قَالَ عَلَی أَحْوَجَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْيَابُهُ قَالَ فَأَنْتُمْ إِذًا
احمدبن یونس، ابراہیم بن سعد، ابن شہاب، حمیدبن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا کہ میں تو ہلاک ہوگیا، آپ نے فرمایا کیونکر، اس نے کہا میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی، آپ نے فرمایا ایک غلام آزاد کردے، عرض کیا میرے پاس غلام نہیں ہے، آپ نے فرمایا تو دومہینے متواتر روزے رکھ، اس نے کہا میں نہیں رکھ سکتا، آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادے، اس نے کہا میرے پاس یہ بھی نہیں، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک عرق لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا وہ سائل کہاں ہے، اس نے کہا میں ہوں، حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اسکو لے جا کر صدقہ کر، اس نے عرض کیا اپنے سے زیادہ ضرورت مندکو دوں، یا رسول ﷲ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کیساتھ بھیجا ہے مدینہ کی دونوں پتھریلی زمینوں کے درمیا ن کوئی گھر ایسا نہیں جومجھ سے زیادہ محتاج ہو، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا پھرتم ہی اسکے مستحق ہویعنی تم ہی اسے کھاؤ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment