کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرچ کرنے کا بیان
باب
بال بچوں پر خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر
4972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لِي مَالٌ أُوصِي بِمَالِي کُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَکَ أَغْنِيَائَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَکَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ وَمَهْمَا أَنْفَقْتَ فَهُوَ لَکَ صَدَقَةٌ حَتَّی اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا فِي فِي امْرَأَتِکَ وَلَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُکَ يَنْتَفِعُ بِکَ نَاسٌ وَيُضَرُّ بِکَ آخَرُونَ
محمد بن کثیر، سفیان، سعد بن ابراہیم، عامر بن سعد کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم مکہ میں میری عیادت کے لئے تشریف لائے، میں نے عرض کیا کہ میرے پاس مال ہے کیا میں اپنے سارے مال میں وصیت کردوں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، میں نے پوچھانصف مال میں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میں نے کہا ثلث میں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ثلث میں کرسکتے ہو،اگرچہ یہ بھی زیادہ ہے اور فرمایا اپنے وارثوں کو مالدارچھوڑنا تمہارے لئے اس سے بہترہے کہ تم انہیں ایسی حالت میں چھوڑوکہ تنگدست ہوں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم ان کی ذات پر جو کچھ بھی خرچ کروگے، وہ تمہارے لئے صدقہ ہے، یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں دیتے ہواور شاید ﷲ تمہاری عمر دراز کرے کہ تم سے ایک قوم کو فائدہ ہواور دوسری کو نقصان-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment