Friday, July 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:175,TotalNo:4826


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
والد کا اپنی بیٹی کوخاوند کے معاملہ میں نصیحت کرنے کا بیان
حدیث نمبر
4826
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَی أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا حَتَّی حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَهُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَائَ فَسَکَبْتُ عَلَی يَدَيْهِ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا قَالَ وَاعَجَبًا لَکَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هُمَا عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ يَسُوقُهُ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنْ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُمْ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَکُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذَلِکَ الْيَوْمِ مِنْ الْوَحْيِ أَوْ غَيْرِهِ وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی الْأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ أَدَبِ نِسَائِ الْأَنْصَارِ فَصَخِبْتُ عَلَی امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي فَأَنْکَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي قَالَتْ وَلِمَ تُنْکِرُ أَنْ أُرَاجِعَکَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّی اللَّيْلِ فَأَفْزَعَنِي ذَلِکَ وَقُلْتُ لَهَا قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِکِ مِنْهُنَّ ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَنَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَيْ حَفْصَةُ أَتُغَاضِبُ إِحْدَاکُنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ حَتَّی اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِکِي لَا تَسْتَکْثِرِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُرَاجِعِيهِ فِي شَيْئٍ وَلَا تَهْجُرِيهِ وَسَلِينِي مَا بَدَا لَکِ وَلَا يَغُرَّنَّکِ أَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ أَوْضَأَ مِنْکِ وَأَحَبَّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ قَالَ عُمَرُ وَکُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِغَزْوِنَا فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَرَجَعَ إِلَيْنَا عِشَائً فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا وَقَالَ أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَدَثَ الْيَوْمَ أَمْرٌ عَظِيمٌ قُلْتُ مَا هُوَ أَجَائَ غَسَّانُ قَالَ لَا بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِکَ وَأَهْوَلُ طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ فَقَالَ اعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ فَقُلْتُ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ کُنْتُ أَظُنُّ هَذَا يُوشِکُ أَنْ يَکُونَ فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ فَاعْتَزَلَ فِيهَا وَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْکِي فَقُلْتُ مَا يُبْکِيکِ أَلَمْ أَکُنْ حَذَّرْتُکِ هَذَا أَطَلَّقَکُنَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَا أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي الْمَشْرُبَةِ فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْکِي بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَهُ أَسْوَدَ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلَامُ فَکَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ کَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرْتُکَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتَّی جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَهُ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَهُ فَصَمَتَ فَلَمَّا وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا قَالَ إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي فَقَالَ قَدْ أَذِنَ لَکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی رِمَالِ حَصِيرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ مُتَّکِئًا عَلَی وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَ نِسَائَکَ فَرَفَعَ إِلَيَّ بَصَرَهُ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ اللَّهُ أَکْبَرُ ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا لَا يَغُرَّنَّکِ أَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ أَوْضَأَ مِنْکِ وَأَحَبَّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عَائِشَةَ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمَةً أُخْرَی فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أَهَبَةٍ ثَلَاثَةٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فَلْيُوَسِّعْ عَلَی أُمَّتِکَ فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّ أُولَئِکَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي فَاعْتَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ الْحَدِيثِ حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَی عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَکَانَ قَالَ مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حِينَ عَاتَبَهُ اللَّهُ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ کُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّمَا أَصْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَعُدُّهَا عَدًّا فَقَالَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَکَانَ ذَلِکَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی آيَةَ التَّخَيُّرِ فَبَدَأَ بِي أَوَّلَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَاخْتَرْتُهُ ثُمَّ خَيَّرَ نِسَائَهُ کُلَّهُنَّ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ
ابوالیمان، شعیب، زہری، عبید ﷲ ، عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ سے پوچھوں کہ وہ دونوں کون سی عورتیں ہیں، جن کے بارے میں ﷲ تعالی نے فرمایاہے کہ تمہارے دل پھر گئے ہیں، تم ﷲ سے توبہ کرو، ایک مرتبہ حضرت عمر نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، (قضاء حاجت کے لئے) وہ راہ سے اترے، میں بھی ان کے ساتھ لوٹا لے کر مڑگیا، جب قضاء حاجت سے فارغ ہوکر واپس ہوئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پرلوٹے سے پانی ڈالا، انہوں نے وضو کیا، میں نے کہا اے امیرا المو منین! آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون کون سی ہیں جن کے متعلق ﷲ تعالی نے فرمایاہے (إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا) ، حضرت عمررضی ﷲ عنہ نے فرمایا اے ابن عباس! مجھے تم پر تعجب آتا ہے، سنو! وہ دونوں عائشہ اور حفصہ ہیں، پھر حضرت عمر نے بقیہ حدیث بیان کی کہ میں اور ایک میرا انصاری پڑوسی (محلہ) بنی امیہ میں رہتے تھے، جومدینہ کے اطراف کے رہنے والے تھے، ہم دونوں باری باری سے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا کرتے تھے، جس دن میں جاتا اپنے ساتھی کو اس دن کی وحی وغیرہ کی تمام خبریں آکر بتا دیتا، جب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا، چونکہ ہم جماعت قریش عورتوں پر غالب تھے، اس لئے جب مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ انصاری عورتیں مردوں پرغالب ہیں ہماری عورتیں بھی انصاری عورتوں کی باتیں سیکھنے لگیں، اپنی بیوی پر میں چیخا، اس نے بھی جواب دے دیا، اس کا پلٹ کر جواب دینا مجھے ناگوار ہواتو اس نے کہا میراجواب کیوں برالگتا ہے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور کوئی کسی دن رات تک آپ کو چھوڑبھی دیتی ہے، میں اس بات سے گھبرایا اور میں نے کہا جس نے یہ کیا اس کا ستیاناس ہوپھر میں تیارہوکر چلا اور حفصہ کے پاس جاکر پوچھا اے حفصہ! کیاتم میں سے کوئی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو رات تک خفارکھتی ہے، کہاہاں! میں نے کہا وہ نامراد اور خسارہ میں ہے، کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے غصہ سے ﷲ کو غصہ آجائے، اور وہ عورت ہلاک ہوجائے، تم آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے زیادہ مانگا کرو نہ آپ کو کچھ جواب دیا کرو اور نہ آپ سے باتیں کرنی چھوڑو، تمہیں ضرورت ہوا کرے، مجھ سے مانگ لیا کرو اور اپنی پڑوسن کی (نقل) کر کے فخرنہ کرو اس لئے کہ وہ تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی پسندیدہ ہے (پڑوسن) سے مراد حضرت عائشہ تھیں، حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ہمارے کانوں میں یہ خبر پڑرہی تھی کہ غسان (شام کا بادشاہ) ہم سے لڑنے کے لئے گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے، ایک مرتبہ میرا انصاری دوست اپنی باری کے دن آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہا اور شام کو واپس آیا تو میرا دروزاہ زور سے کھٹکھٹایا، پوچھا عمرہیں، میں گھبرا کر ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگا آج ایک بڑاحادثہ گذراہے، میں نے کہا وہ کیا، کیا غسانی لشکرآگیا، اس نے کہا یہ بات نہیں، اس سے بھی بڑی بات ہے، ایک خوفناک بات، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی، میں نے اپنے دل میں کہا بس حفصہ رضی ﷲ عنہا تو نامراد اور خسارے میں ہوگئی میراگمان تھا کہ عنقریب یہ واقعہ ہوگا میں نے کپڑے پہنے اور صبح کی نماز آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی (نماز سے فارغ ہو کر) حضرت اپنے ایک بالائی کمرے میں چلے گئے اور اسکے گوشے میں جاکربیٹھ گئے اور میں حفصہ رضی ﷲ عنہا کے پاس چلا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حفصہ رضی ﷲ عنہا رورہی ہے میں نے پوچھا کس بات سے رورہی ہو؟ کیا میں تمھیں نہ ڈراتا تھا کیا تم کو رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم نے طلاق دے دی؟ اس نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں آپ اس گوشہ میں بیٹھے ہیں پھر میں نکل کرمنبرکے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اسکے چاروں طرف لوگ بیٹھے ہیں اور بعض رو رہے ہیں میں تھوڑی دیر انکے پاس بیٹھارہا پھر میرا دل نہ رہ سکا میں اسی بالائی کو ٹھڑی کے پاس جس میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم تھے آیا اور آپ کے حبشی غلام سے کہا کہ میرے لئے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سے اجازت لے لوغلام نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے جا کر عرض کیا اور واپس آکر کہا کہ میں نے حضرت سے عرض کیا اور تمھارا ذکر کیا (لیکن) آپ چپ ہورہے میں واپس آکرپھر ان لوگوں میں بیٹھ گیا جومنبر کے پاس تھے پھردل نے بے قرار کیا اور میں نے غلام سے جاکر کہا میرے لئے اجازت مانگو وہ جا کر پھر لوٹا اور کہا میں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سے تمھارے متعلق ذکر کیا (مگر) آپ خاموش رہے پھر میں ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا پھر مجھ پر وہ بات نازل ہوئی جودل میں موجزن تھی چناچہ میں نے پھر جا کرغلام سے کہا کہ میرے لئے ایک مرتبہ پھر جا کرحضور صلی ﷲ علیہ وسلم سے اجازت مانگوغلام اندر گیا اور آکر مجھ سے کہا کہ میں نے سرور دوعالم سے تمھارا ذکر کیا ہے مگرآپ خاموش ہورہے ہیں پھر الٹا پھرا اور آنے لگا تو اچانک غلام نے کہا کہ آپ کو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اجازت دے دی جب میں اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم چھال بھرا تکیہ رکھے کھردری چٹائی پرلیٹے تھے جس سے آپ کے جسد اطہرپر نشان پڑ گئے ہیں میں نے (جا کر) السلام علیکم کہا اور کھڑے ہی کھڑے کہا یا رسول ﷲ کیا آپ نے بیویوں کو طلاق دے دی آپ نے میری طرف آنکھ اٹھا کرفرمایا نہیں میں نے (متعجب) ہوکر کہا ﷲ اکبر پھرمیں نے کھڑے ہی کھڑے دل بہلانے کے واسطے عرض کیا کاش آپ میری طرف متوجہ ہوں ہم قریشی عورتوں پر غالب تھے لیکن جب مدینہ آئے تو یہاں ایسی قوم کو دیکھا کہ انکی عورتیں مردوں پر غالب ہیں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم مسکرائے پھر میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! اگر آپ میرا حال سنیں (تومیں بتاؤں) میں نے حفصہ رضی ﷲ عنہا کے پاس جا کر اس سے کہا تو اس بات کی نقل نہ کرتیری پڑوسن یعنی عائشہ رضی ﷲ عنہا تو تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول ﷲ کی پسندیدہ ہے پھرآنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم دوبارہ مسکرانے لگے میں سرکار دوعالم صلی ﷲ علیہ وسلم کو ہنستے دیکھ کر بیٹھ گیا آپ کے مکان کے اندر ہرطرف نگاہ اٹھا کرمیں نے دیکھا تو بخدا وہاں تین کھالوں کے علاوہ مجھے اور کوئی چیز نظرنہ آئی میں نے عرض یا رسول ﷲ! آپ ﷲ سے دعا کیجئے تاکہ آپ کی امت پر کشادگی کرے، کیوں کہ فارس وروم میں وسعت وکشادگی ہرچیزکی فراوانی ہے اور دنیاوی سامان ان کے پاس بے حد ہے، وہ خدا کی عبادت بھی نہیں کرتے، پہلے آپ ٹیک لگائے بیٹھے تھے (یہ سن کر) سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا اے ابن خطاب! کیا تم اسی خیال میں ہو ان لوگوں کی برائیوں کا بدلہ بسرعت نامہ اسی دنیا میں مل گئے، میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! آپ میرے لئے بخشش کی دعا فرمائیے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کسی بات کی وجہ سے جو کہ حفصہ نے عائشہ سے ظاہر کردی، اپنی بیویوں سے انتیس دن تک الگ ہوگئے تھے، اور کمال غصہ سے آپ نے فرمایا، میں ایک ماہ تک تمہارے پاس نہ آوئں گا، جب انتیس دن گذرگئے، تو آپ پہلے حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کے پاس گئے، حضرت عائشہ نے کہا یا رسول ﷲ! آپ نے ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، ابھی تو انتیس دن ہوئے ہیں، میں مسلسل گن رہی ہوں، تو آپ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، چناچہ وہ مہینہ انتیس کاہی ہوا، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے کہا پھر ﷲ نے آیت تخییر نازل فرمائی، سب بیویوں سے پہلے آپ نے مجھے ہی پوچھا، میں نے آپ کو اختیارکیا اور پھر آپ نے سب بیویوں کو اختیاردیا، ان سب نے میری طرح جواب دیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment