کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
لوگوں کو دکھانے دنیا کے کمانے یا فخر کے طور پر قرآن پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر
4702
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ کَالْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ کَالتَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَالرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَالْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ أَوْ خَبِيثٌ وَرِيحُهَا مُرٌّ
مسدد، یحییٰ، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک، ابوموسی رضی ﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جومومن قرآن پڑھتا ہے اوراس پر عمل کرتا ہے وہ مثل سنگترے کے ہے، جس کامزہ اچھا ہے اور بوبھی اچھی ہے اور جو مسلمان قرآن نہیں پڑھتا اور عمل کرتا ہے تو وہ کھجور کی طرح ہے کہ اس کامزہ تو اچھا ہے، مگربو کچھ نہیں اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پھول کی طرح ہے کہ اس کی بوتو اچھی ہے، مگرمزہ کڑوا ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے، جس کامزہ بھی براہے اور بوبھی خراب-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment