Friday, July 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:181,TotalNo:4832


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
نکاح کا بیان
باب
خاوند کی ناشکری کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4832
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِکَ فَاذْکُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِکَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَکَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَائَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِکُفْرِهِنَّ قِيلَ يَکْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْکَ خَيْرًا قَطُّ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، زید بن اسلم، عطا بن یسار، عبد ﷲ بن عباس کہتے ہیں کہ زمانہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میں سورج گرہن ہوا آپ نے نماز کسوف پڑھی، آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی نماز پڑھی، آپ نے بہت طویل سورت (بقرۃ) پڑھنے کے قریب قیام کیا رکوع کیا پھر سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام پہلے سے کم تھا پھر بہت طویل رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر کھڑے ہوکر طویل قیام کیا او ریہ پہلے قیام سے کم تھا پھررکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر کھڑے ہوکر طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا پھرطویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا پھر سر اٹھا کر سجدے میں گئے پھر سلام پھیرا اس وقت سورج روشن ہوگیا تھا آپ نے فرمایا کہ چاند سورج ﷲ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے جینے سے گہن میں نہیں آتے جب یہ حالت دیکھوتو ﷲ کا ذکر کیا کرو لوگوں نے کہا کہ یا رسول ﷲ! ہم نے (عجیب معاملہ) دیکھا آپ نے اسی جگہ کچھ چیز لینے کو ہاتھ بڑھایا پھر ہم نے دیکھا کہ آپ پیچھے ہٹ گئے آپ نے فرمایا کہ میں نے جنت کو دیکھا یا مجھے جنت دکھائی گئی میں نے اس سے انگور کے خوشے لینے کو ہاتھ بڑھایا اگرمیں لے لیتا تو جبتک دنیا باقی رہتی تم اس سے کھاتے رہتے پھرمیں نے (دوزخ کی) آگ دیکھی میں نے آج کے دن سے برا موقع کبھی نہیں دیکھا اور اکثر دوزخ میں رہنے والیاں میں نے عورتیں دیکھیں، لوگوں نے پوچھا یا رسول ﷲ! یہ کیوں؟ آپ نے فرمایا کہ ان کی ناشکری کرنے کے سبب سے کسی نے کہا کہ کیا ﷲ کے ساتھ کفر کرتی ہیں آپ نے فرمایا نہیں یہ اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموشی کرتی ہیں اگر عمر بھر کسی کے ساتھ بھلائی کرے پھر وہ تجھ سے کچھ تکلیف دیکھے تو کہنے لگے میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment