کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ تم میں سے جو وفات پاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔
حدیث نمبر
4963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ لَمَّا جَائَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
محمد بن کثیر، سفیان، عبد ﷲ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم، حمید بن نافع، زینب بنت ام سلمہ، ام حبییبہ بنت ابوسفیان سے روایت کرتے ہیں کہ جب ام حبیبہ کے پاس ان کے والد کے مرنے کی خبر آئی تو انہوں نے خوشبو منگوا کردونوں ہاتھوں پر ملی اور کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی اگرمیں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنتی کہ کسی عورت کے لیے جو ﷲ اور قیامت کے دن پرایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں ہے کہ سوائے شوہر کے کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن تک منائے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment