Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:311,TotalNo:4962


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول کہ تم میں سے جو وفات پاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔
حدیث نمبر
4962
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شِبْلٌ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا قَالَ کَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَی الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْکُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ قَالَ جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَائَتْ سَکَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَائَتْ خَرَجَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَی غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْکُمْ فَالْعِدَّةُ کَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا زَعَمَ ذَلِکَ عَنْ مُجَاهِدٍ وَقَالَ عَطَائٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَائَتْ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَی غَيْرَ إِخْرَاجٍ وَقَالَ عَطَائٌ إِنْ شَائَتْ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا وَسَکَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَائَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْکُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ قَالَ عَطَائٌ ثُمَّ جَائَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّکْنَی فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَائَتْ وَلَا سُکْنَی لَهَا
اسحاق بن منصور، روح بن عبادہ، شبل، ابن ابی نجیح، مجاہد سے آیت ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ یہی عدت عورت گذارتی تھی، پھر ﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًاالآیہ﴾ یعنی وہ مرد جوتم میں سے فوت ہو جاتے ہیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جاتے ہیں تو انہیں اپنی بیویوں کے لئے وصیت کرنی چاہئے کہ ایک سال کا خرچ اور اپنے گھر سے نکالی نہ جائیں پس اگروہ خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں، جوانہوں نے اپنی دانست میں اچھا کیا، مجاہد نے کہا کہ ﷲ تعالی نے عورت کے واسطے سات ماہ بیس دن سال پورا کرنے کے لئے وصیت شمار کیا ہے، اگر چاہے تو وصیت جان کر ٹھہری رہے اور اگر چاہے تو نکل جائے اور ﷲ تعالی کے قول غیر اخراج کا یہی مطلب ہے کہ عدت جیسی کہ اس پر واجب ہے (چار ماہ دس دن ہے) یہ مجاہد سے منقول ہے اور عطاء نے حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت نے گھر والوں کے پاس عدت کو منسوخ کردیا اس لئے جہاں چاہے عدت گذارے اور ﷲ تعالی کے قول غیر اخراج کا مطلب یہی بیان کیا اگر چاہے تو عدت اپنے گھر والوں کے پاس گذارے اور اپنی وصیت میں رہے اور اگر چاہے تو ﷲ تعالی کے قول ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْکُمْ﴾ کی بناء پر نکل جائے، عطاء نے کہا کہ پھر میراث کی آیت نازل ہوئی، تو اس نے رہنے کو منسوخ کردیا، اس لئے جہاں چاہے عدت گذارے اور اس کی سکونت کے لئے کوئی جگہ ضروری نہیں- محمد بن کثیر، سفیان، عبد ﷲ بن ابی بکربن عمرو بن حزم، حمید بن نافع، زینب بنت ام سلمہ، ام حبیبہ بنت ابوسفیان کہتے ہیں کہ جب ام حبیبہ کے پاس ان کے والد کے مرنے کی خبر آئی تو انہوں نے خوشبو منگوا کر دونوں ہاتھوں پرملی اور کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی، اگرمیں آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنتی کہ کسی عورت کے لئے جو ﷲ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں ہے کہ سوائے شوہر کے کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کا سوگ چار ماہ دس دن تک منائے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment