کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرچ کرنے کا بیان
باب
دایہ وغیرہ سے دودھ پلانے کا بیان
حدیث نمبر
4990
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْکِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ وَتُحِبِّينَ ذَلِکِ قُلْتُ نَعَمْ لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَکَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي فَقَالَ إِنَّ ذَلِکِ لَا يَحِلُّ لِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ إِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّکَ تُرِيدُ أَنْ تَنْکِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَکُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا بِنْتُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِکُنَّ وَلَا أَخَوَاتِکُنَّ وَقَالَ شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ عُرْوَةُ ثُوَيْبَةُ أَعْتَقَهَا أَبُو لَهَبٍ
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ زینب بنت ابی سلمہ، ام حبیبہ زوجہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میری بہن بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کرلیں،آپ نے فرمایا کہ تو اس کو پسند کرتی ہے میں نے عرض کیا جی ہاں! میں آپ کے لیے تنہا نہیں رہنا چاہتی بلکہ چاہتی ہوں کہ اس خیر میں میری بہن بھی شریک ہو آپ نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم! بخدا ہم میں تو یہ تذکرہ ہو رہا تھا کہ آپ ابوسلمہ کے بیٹی درہ سے نکاح کر رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ ام سلمہ کی بیٹی سے؟ میں نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ میری رضاعی بھتیجی ہے مجھ کو اورابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے اس لیے مجھ پر اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو پیش نہ کرو اورشعیب نے زہری سے نقل کیا عروہ نے بیان کیا کہ ثوبیہ کو ابولہب نے آزاد کر دیا تھا۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment