کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خرچ کرنے کا بیان
باب
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ جس شخص نے کوئی قرض چھوڑا یا بچے چھوڑے تو میرے ذمہ ہیں۔
حدیث نمبر
4989
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُؤْتَی بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّی عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هَلْ تَرَکَ لِدَيْنِهِ فَضْلًا فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَکَ وَفَائً صَلَّی وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَکَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ
یحیی بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس جب کسی شخص کا جنازہ لایا جاتا تو آپ دریافت فرماتے کہ اس نے اپنے دین کی ادائیگی کے لئے اتنا مال چھوڑا یا نہیں کہ اس کا دین ادا ہوسکے؟ اگر آپ سے کہا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے کہ اسکا قرض ادا ہوجائے تو آپ اس پر نماز پڑھتے ورنہ آپ مسلمانوں سے فرماتے کہ اپنے بھائی پر نماز پڑھو، جب ﷲ تعالی نے آپ پر فتوحات کھولیں تو آپ نے فرمایا کہ میں مومنوں کا انکی ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہوں اگر کوئی مسلمان مرگیا اور اس نے قرض چھوڑا تو اسکا میں ذمہ دارہوں اور اگرمال چھوڑے تو وہ اسکے وارثوں کا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment