Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:341,TotalNo:4992


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کھانے کا بیان
باب
کھانوں کا بیان۔
حدیث نمبر
4992
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّی قُبِضَ وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ کِتَابِ اللَّهِ فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنْ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَی رَأْسِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَی رَحْلِهِ فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ عُدْ يَا أَبَا هِرٍّ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ عُدْ فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّی اسْتَوَی بَطْنِي فَصَارَ کَالْقِدْحِ قَالَ فَلَقِيتُ عُمَرَ وَذَکَرْتُ لَهُ الَّذِي کَانَ مِنْ أَمْرِي وَقُلْتُ لَهُ فَوَلَّی اللَّهُ ذَلِکَ مَنْ کَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْکَ يَا عُمَرُ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَقْرَأْتُکَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْکَ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَأَنْ أَکُونَ أَدْخَلْتُکَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَکُونَ لِي مِثْلُ حُمْرِ النَّعَمِ
یوسف بن عیسیٰ، محمد بن فضیل، فضیل، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ کے گھر والوں نے تین دن بھی آسودہ ہو کرکھانا نہیں کھایا یہاں تک آپکی وفات ہوگی اور ابوحازم حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے سخت بھوک لگی، میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس گیا اور قرآن کی آیتیں سنانے کی خواہش ظاہر کی، وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور میرے لئے دروازرہ کھولا، میں تھوڑی دور چلا تھا کہ اپنے منہ کے بل بھوک کی وجہ سے گر پڑا، دیکھا تو میرے سر کے پاس رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کھڑے ہیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! میں نے کہا لبیک وسعدیک یا رسول ﷲ! آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا کیا، اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے میری حالت پہچان لی، چناچہ مجھے اپنے گھر لے گئے، اور مجھے ایک پیالہ دودھ پینے کا حکم دیا، میں نے اس میں سے پی لیا، پھرفرمایا اور پیو اے ابوہریرہ! میں نے دوبارہ پیا، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اور پی لو، چناچہ میں نے پی لیا، یہاں تک کہ میرا پیٹ پیالہ کی طرح ہوگیا، پھر میں عمر سے ملا اور ان سے اپنی حالت بیان کی اور میں نے کہا اے عمر ﷲ نے اس کام کا اسے مالک بنا دیا جو اس کا زیادہ مستحق تھا، یعنی رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے میری بھوک کی تکلیف دور کی، بخدا میں نے تم سے آیت پڑھنے کو کہا تھا، حالانکہ میں تم سے زیادہ ان آیتوں کا پڑھنے والا تھا، حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میں (سمجھا نہیں تھا ورنہ) بخدا تمہیں اپنے گھر میں داخل کرنا (مہمان بنانا) مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے پاس سرخ اونٹ ہوں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment