کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
قرآن شریف بغیر دیکھے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر
4673
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ امْرَأَةً جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لِأَهَبَ لَکَ نَفْسِي فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتْ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَکُنْ لَکَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا فَقَالَ هَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اذْهَبْ إِلَی أَهْلِکَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَالَ انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَکِنْ هَذَا إِزَارِي قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَائٌ فَلَهَا نِصْفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِکَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْئٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْکَ شَيْئٌ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّی طَالَ مَجْلِسُهُ ثُمَّ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَائَ قَالَ مَاذَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ مَعِي سُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا عَدَّهَا قَالَ أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّکْتُکَهَا بِمَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، ابوحازم، سہل بن سعد رضی ﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم میں نے آپ کو اپنا نفس بخش دیا، آپ نے اس کو اوپر سے نیچے تک غور سے دیکھا پھر اپنا سرجھکا لیا، جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا تو وہ بیٹھ گئی، پھرآپ کے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول ﷲ! اگرآپ کو اس عورت کی ضرورت نہ ہوتو اس کا مجھ سے نکاح کردیجئے، آپ نے فرمایا کیا تیرے پاس کچھ سامان ہے، اس نے جواب دیا کچھ نہیں، آپ نے فرمایا اپنے گھر جا کردیکھو شاید تمہیں کچھ مل جائے، وہ گیا پھر لوٹ کرآیا اور کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مجھے کچھ بھی نہیں ملا، آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی لے آؤ، وہ گیا، پھرآکر عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! لوہے کا چھلا بھی نہیں، البتہ یہ تہہ بند ہے، سہل کہتے ہیں اس کے پاس دوسری چادربھی نہ تھی، لیکن اس نے کہا اس خاتون کوآدھا تہہ بند دے دیجئے، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنی اس ازارکوکیا کرے گا، اگر تو اسے پہن لے گا تو عورت کے پاس نہ رہے گی اور اگروہ پہن لے گی تو تیرے پاس کچھ نہ رہے گا، تب وہ شخص بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے مغموم جاتے دیکھ کر بلوایا اور فرمایا تجھے کچھ قرآن یاد ہے، اس نے جواب دیا مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان سورتوں کوشمار کرکے تعداد بھی بتائی، آپ نے فرمایا کیا وہ تجھے حفظ ہیں؟ اس نے جواب دیا ہاں! آپ نے فرمایا جا میں نے تجھے قرآن شریف حفظ کرنے کی وجہ سے اس کا مالک بنادیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment