Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:265,TotalNo:4916


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
مشرک عورت مسلمان ہوجائے تو اس کے نکاح اور عدت کا بیان
حدیث نمبر
4916
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَالَ عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ کَانَ الْمُشْرِکُونَ عَلَی مَنْزِلَتَيْنِ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ کَانُوا مُشْرِکِي أَهْلِ حَرْبٍ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ وَمُشْرِکِي أَهْلِ عَهْدٍ لَا يُقَاتِلُهُمْ وَلَا يُقَاتِلُونَهُ وَکَانَ إِذَا هَاجَرَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ لَمْ تُخْطَبْ حَتَّی تَحِيضَ وَتَطْهُرَ فَإِذَا طَهُرَتْ حَلَّ لَهَا النِّکَاحُ فَإِنْ هَاجَرَ زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْکِحَ رُدَّتْ إِلَيْهِ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ مِنْهُمْ أَوْ أَمَةٌ فَهُمَا حُرَّانِ وَلَهُمَا مَا لِلْمُهَاجِرِينَ ثُمَّ ذَکَرَ مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ مِثْلَ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ وَإِنْ هَاجَرَ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ لِلْمُشْرِکِينَ أَهْلِ الْعَهْدِ لَمْ يُرَدُّوا وَرُدَّتْ أَثْمَانُهُمْ وَقَالَ عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ کَانَتْ قَرِيبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَکَانَتْ أُمُّ الْحَکَمِ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ تَحْتَ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْفِهْرِيِّ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمانَ الثَّقَفِيُّ
ابراہیم بن موسی، ہشام، ابن جریج، عطاء، ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کی دوجماعتیں تھیں، اول حربی مشرک کہ آپ ان سے جنگ کرتے اور وہ آپ سے جنگ کرتے تھے، دوسرے معاہد مشرک کہ نہ تو آپ ان سے جنگ کرتے تھے اور نہ وہ آپ سے جنگ کرتے تھے، اور اگر کوئی حربی عورت ہجرت کرکے آجاتی تو اس کے پاس پیغام نکاح نہ بھیجتے جب تک کہ اسے حیض نہ آجائے، اور اس سے پاک نہ ہوجائے، جب وہ پاک ہوجاتی تو اس کے لئے نکاح جائز ہوتا اور اگر شوہر نے اس کے نکاح سے پہلے ہی ہجرت کی تو وہ اپنے شوہر کو واپس کردی جاتی اور اگر ان کا کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کرکے آتی تو وہ دونوں آزاد ہوجاتے اور ان کو بھی وہی حق ہوتا جو مہاجرین کا ہوتا، پھرمعاہد کا ذکر مجاہد کی حدیث کی طرح کیا، اگرمعاہد کی لونڈی یاغلام ہجرت کر کے آتے تو انہیں واپس نہ کیا جاتا بلکہ ان کی قیمتیں دی جاتیں اور عطاء نے ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے نقل کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ حضرت عمر بن الخطاب کے نکاح میں تھیں، اس کو طلاق دے دی، تو اس سے معاویہ بن ابی سفیان نے نکاح کرلیا اور ام حکم بنت ابی سفیان، عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس کو طلاق دے دی تو عبد ﷲ بن عثمان ثقفی نے اس سے نکاح کر لیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment