کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
بوقت قرات قرآن سکینہ اور فرشتوں کے نزول کا بیان
حدیث نمبر
4661
لیث، یزید بن ہاد کا قول نقل کرتے ہیں کہ محمد بن ابراہیم کہتے تھے کہ اسید بن حضیر ایک رات سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے اور گھوڑا ان کے پاس بندھا ہوا تھا اچانک گھوڑا بدکنے لگا وہ چپکے ہو رہے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا پھر وہ پڑھنے لگے گھوڑا پھر بدکنے لگا پھر وہ خاموش ہو رہے تو وہ ٹھہر گیا پھر وہ پڑھنے لگے پھر گھوڑا بدکنے لگا اس کے بعد ابن حضیر رک گئے چونکہ ان کا بیٹا یحیی گھوڑے کے قریب سو رہا تھا انہیں ڈر ہوا کہیں گھوڑا اسے کچل نہ ڈالے جب انہوں نے اپنے لڑکے کو وہاں سے ہٹا لیا اور آسمان کی طرف نظر دوڑائی تو آسمان دکھائی نہ دیا بلکہ ایک ابر جس میں روشنیاں چمک رہی تھیں اوپر اٹھتا ہوا نظر آیا صبح کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے آکر پورا قصہ بیان کیا آپ نے فرمایا اے ابن حضیر! تم برابر پڑھتے رہتے تو اچھا تھا۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment