صحیح بخاری
کتاب
طب کا بیان
باب
عدویٰ (بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا) کوئی چیز نہیں
حدیث نمبر
5373
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا عَدْوَی قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُورِدُوا الْمُمْرِضَ عَلَی الْمُصِحِّ وَعَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَرَأَيْتَ الْإِبِلَ تَکُونُ فِي الرِّمَالِ أَمْثَالَ الظِّبَائِ فَيَأْتِيهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَتَجْرَبُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَعْدَی الْأَوَّلَ
ابوالیمان، شعیب، زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عدوی (مرض کا ایک سے دوسرے کو لگنا) کوئی چیز نہیں ہے، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیمار کو تندرست کے پاس نہ اتارو، اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سنان بن ابی سنان دولی نے بیان کیا کہ ابوہریرہ نے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا عدوی (مرض کا ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہونا) کوئی چیز نہیں، تو ایک اعرابی کھڑاہوا اور عرض کیا کہ بھلا بتلائیں تو کہ اونٹ میدانوں میں ہرن کی طرح ہوتے ہیں ان کے پاس ایک خارشی اونٹ آتا ہے اور سب کو خارشی بنا دیتا ہے، تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے کے پاس خارش کہاں سے آئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment