Monday, August 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:518,TotalNo:5169

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
قربانیوں کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوبردہ سےفرمانا۔
حدیث نمبر
5169
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ضَحَّی خَالٌ لِي يُقَالُ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاتُکَ شَاةُ لَحْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي دَاجِنًا جَذَعَةً مِنْ الْمَعَزِ قَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَصْلُحَ لِغَيْرِکَ ثُمَّ قَالَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُکُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ تَابَعَهُ عُبَيْدَةُ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ وَتَابَعَهُ وَکِيعٌ عَنْ حُرَيْثٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَقَالَ عَاصِمٌ وَدَاوُدُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ وَقَالَ زُبَيْدٌ وَفِرَاسٌ عَنْ الشَّعْبِيِّ عِنْدِي جَذَعَةٌ وَقَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنَاقٌ جَذَعَةٌ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ عَنَاقٌ جَذَعٌ عَنَاقُ لَبَنٍ
مسدد، خالد بن عبد ﷲ ، مطرف، عامر، براء بن عاذب رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میرے ماموں نے جن کو ابوبردہ کہاجاتا ہے نماز سے پہلے قربانی کرلی تو ان سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری بکری تو گوشت کی بکری ہے (یعنی قربانی نہیں ہوئی) انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میرے پاس پلا ہواچھ ماہ کا بچہ ہے آپ نے فرمایا تو اس کو ذبح کرلے اور تیرے علاوہ کسی کے لیے درست نہیں ہوگا پھر فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا تو وہ صرف اپنی ذات کے لیے ذبح کرتا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پالیا عبیدہ نے شعبی اور ابراہیم سے اور وکیع نے حریث سے انہوں نے شعبی سے اس کی متابعت میں روایت کی اور عاصم اور داؤد نے شعبی بایں لفظ روایت کیا کہ "عندی عناق لبن" اور زبید وفراس نے شعبی سے "عندی جذعۃ" کالفظ نقل کیا اور ابوالاحوص نے کہا کہ ہم سے منصور نے "عناق جذعۃ" کالفظ بیان کیا اور ابن عون نے "عناق جذع عناق لبن "کے الفاظ روایت کیے ہیں۔



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment