صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو اپنا ازار گھسیٹ کربغیر تکبر کے چلے۔
حدیث نمبر
5382
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ وَنَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُسْتَعْجِلًا حَتَّی أَتَی الْمَسْجِدَ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَجُلِّيَ عَنْهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّی يَکْشِفَهَا
محمد، عبد الاعلیٰ، یونس، حسن، ابوبکر سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ سورج گرہن ہوا، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم عجلت کے ساتھ کپٹرا گھسیٹتے ہوئے کھڑئے ہوئے یہاں تک مسجد پہنچے اور لوگ بھی جمع ہوگئے، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دورکعت نماز پڑھی، پھر آفتاب روشن ہوگیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم ہم لوگوں کی طرف متوجہ ہوگئے اور فرمایا کہ آفتاب وماہتاب ﷲ تعالی کی نشانیاں ہیں، جب تم ان میں (گرہن) دیکھوتونماز پڑھو اور ﷲ تعالی سے دعا کرویہاں تک کہ گرہن دورہوجائے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment