صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
بوریا وغیرہ پر بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر
5458
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَحْتَجِرُ حَصِيرًا بِاللَّيْلِ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَيَجْلِسُ عَلَيْهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَثُوبُونَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ حَتَّی کَثُرُوا فَأَقْبَلَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ
محمد بن ابی بکر، معتمر، عبیدﷲ ، سعیدبن ابی سعید، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول ﷲ رات کو بورئیے کا حجرہ بنا لیتے اور نماز پڑھتے، اور دن کو اسے پھیلادیتے اور اس پر بیٹھتے لوگ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے، یہاں تک کہ جب ان کی تعداد بڑھ گئی تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم متوجہ ہوئے، اور فرمایا اے لوگو! وہ اعمال اختیارکرو جن کی تمہیں طاقت ہو اس لئے کہ ﷲ نہیں اکتاتا جب تک کہ تم نہ اکتاؤ، اور ﷲ کے نزدیک سب سے بہتر عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگر چہ کم ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment