صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
خمیصہ کا بیان۔
حدیث نمبر
5419
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدِ بْنِ فُلَانٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَائُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ مَنْ تَرَوْنَ أَنْ نَکْسُوَ هَذِهِ فَسَکَتَ الْقَوْمُ قَالَ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا وَقَالَ أَبْلِي وَأَخْلِقِي وَکَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ فَقَالَ يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَاهْ وَسَنَاهْ بِالْحَبَشِيَّةِ
ابونعیم، اسحاق بن سعید، سعید بن عمرو بن سعید بن عاص، ام خالد بنت خالد کہتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس کپڑے لائے گئے، جس میں خمیصہ بھی تھی، آپ نے فرمایا کہ یہ کسے پہناؤ، لوگ خاموش رہے، تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس ام خالد کو بلا، چناچہ وہ اٹھا کر لائی گئی، آپ نے خمیصہ ہاتھ میں لے کر اس کو پہنادی اور فرمایا کہ خدا کرے اس کپڑے کو پرانا ہونے اور پھٹنے تک استعمال کرے (پورے طورپر اس سے کام لے) اور اس میں سبز یازرد رنگ کے نقش ونگار تھے، آپ نے فرمایا اے ام خالد! ھذاہ سناہ، سناہ حبشی زبان میں حسن کو کہتے ہیں، (مطلب یہ کہ اے ام خالد! یہ کس قدر حسین معلوم ہوتی ہے) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment