صحیح بخاری
کتاب
ذبیحوں اور شکار کا بیان
باب
جو جانور بھاگ جائے وہ بمنزلہ جنگلی جانور کے ہے۔
حدیث نمبر
5122
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًی فَقَالَ اعْجَلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ فَکُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُکَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَی الْحَبَشَةِ وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ کَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَکُمْ مِنْهَا شَيْئٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَکَذَا
عمروبن علی، یحییٰ، سفیان کے والد، عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج، رافع بن خدیج رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول ﷲ! ہم کل دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہے، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی کرویا یہ فرمایا کہ ہلاک کردو، جوچیز خون بہادے اور ﷲ کا نام اس پر لیا گیا ہو، تو اس کو کھاؤ، لیکن دانت اور ناخن نہ ہو، اور میں تم سے اس کی وجہ بیان کردوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے (ایک بار) مال غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ہمارے ہاتھ آئیں، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، ایک آدمی نے اس کی طرف تیرپھینکا جس سے وہ رک گیا، تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں سے بعض وحشی جانوروں کی طرح (ہوجاتے) ہیں، جب وہ تم پر غالب آجائیں (ان پر قابونہ پاسکو) تو ان کے ساتھ ایسا ہی کرو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment