Monday, August 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:724,TotalNo:5375

کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طب کا بیان
باب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیئے جانے کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں۔
حدیث نمبر
5375
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سَمٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لِي مَنْ کَانَ هَا هُنَا مِنْ الْيَهُودِ فَجُمِعُوا لَهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُکُمْ عَنْ شَيْئٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ فَقَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَبُوکُمْ قَالُوا أَبُونَا فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَذَبْتُمْ بَلْ أَبُوکُمْ فُلَانٌ فَقَالُوا صَدَقْتَ وَبَرِرْتَ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْئٍ إِنْ سَأَلْتُکُمْ عَنْهُ فَقَالُوا نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ وَإِنْ کَذَبْنَاکَ عَرَفْتَ کَذِبَنَا کَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْلُ النَّارِ فَقَالُوا نَکُونُ فِيهَا يَسِيرًا ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَئُوا فِيهَا وَاللَّهِ لَا نَخْلُفُکُمْ فِيهَا أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْئٍ إِنْ سَأَلْتُکُمْ عَنْهُ قَالُوا نَعَمْ فَقَالَ هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سَمًّا فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلَی ذَلِکَ فَقَالُوا أَرَدْنَا إِنْ کُنْتَ کَذَّابًا نَسْتَرِيحُ مِنْکَ وَإِنْ کُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّکَ
قتیبہ، لیث، سعیدبن ابوسعید، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب خیبرفتح ہواتورسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو ایک بکری ہدیہ میں ملی جوزہرآلودتھی، تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میرے سامنے ان یہودیوں کو جمع کروجویہاں موجودہیں، چناچہ وہ لوگ لائے گئے تو ان لوگوں سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایامیں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم مجھے ٹھیک ٹھیک بتاؤ گے؟ ان لوگوں نے کہا ہاں! اے ابوالقاسم (صلی ﷲ علیہ وسلم) آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے پوچھا تمہارا باپ کون ہے؟ ان لوگوں نے کہا ہمارا باپ فلاں ہے رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تم جھوٹ کہتے ہو؟ تمہارا باپ فلاں ہے، ان لوگوں نے کہا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ٹھیک کہا اور سچ فرمایا، پھرآپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم ٹھیک ٹھیک جواب دوگے ان لوگوں نے عرض کیا ہاں ابوالقاسم (صلی ﷲ علیہ وسلم) اگرہم لوگ غلط کہیں گے تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو علم ہوجائے گا جیسا کہ آپ کو ہمارے باپ کے متعلق علم ہوگیا، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا بتاؤ دوزخی کون لوگ ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ ہم لوگ تھوڑی مدت تک رہیں گے پھر ہمارے بعد تم لوگ رہوگے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ذلیل ہوجاؤ، بخدا ہم کبھی بھی تمہارے بعد اس میں نہیں رہیں گے پھرآپ صلی ﷲ علیہ وسلم ان لوگوں سے فرمایا کیا تم سچ بتاؤ گے اگرتم سے کوئی بات پوچھوں، ان لوگوں نے کہا ہاں! آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اس بکری میں زہرملایا؟ انہوں کہا ہاں! آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پوچھا کس چیز نے تمہیں اس پرآمادہ کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ اگرتم جھوٹے ہوگے تو ہمیں تم سے نجات مل جائے گی اور اگرتم نبی ہو تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment