صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
گھوٹ مار کر بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر
5416
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ نَهَی عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ وَالْمُلَامَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلَا يُقَلِّبُهُ إِلَّا بِذَلِکَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ ثَوْبَهُ وَيَکُونَ ذَلِکَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ وَاللِّبْسَتَيْنِ اشْتِمَالُ الصَّمَّائِ وَالصَّمَّائُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَی أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُو أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرَی احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ لَيْسَ عَلَی فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْئٌ
یحییٰ بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، عامربن سعد، حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دوقسم کے لباس سے اور دوقسم کی بیع سے منع فرمایاہے، بیع میں تو ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا، اور ملامسہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے آدمی کا کپڑا رات یادن کو چھو لے اور الٹ پلٹ نہ کرے اور یہی بیع ہوجائے، اور منابذہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے پر اپنا کپڑا پھینک دے اور دوسرا اس پر پھینک دے اور بغیر دیکھے ہوئے اور باہمی رضامندی کے بغیر یہ بیع ہوجائے، اور اشتمال صماؤ سے منع فرمایا اور صماؤ یہ ہے کہ اپنا کپڑا پنے ایک کندھے پر اس طرح ڈالے کہ دوسرا کھلا رہے اور اس پر کپڑا نہ ہو اور دوسرا لباس (جس سے منع فرمایا) یہ ہے کہ ایک کپڑا لپیٹ کر بیٹھا ہوا ہو اور اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment