صحیح بخاری
کتاب
قربانیوں کا بیان
باب
قربانی کا گوشت کس قدر کھایا جائے اور کس قدر جمع کیا جاسکتا ہے
حدیث نمبر
5184
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الْأَضْحَی مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاکُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْعِيدَيْنِ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِيَامِکُمْ وَأَمَّا الْآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْکُلُونَ مِنْ نُسُکِکُمْ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَکَانَ ذَلِکَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدْ اجْتَمَعَ لَکُمْ فِيهِ عِيدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي فَلْيَنْتَظِرْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاکُمْ أَنْ تَأْکُلُوا لُحُومَ نُسُکِکُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ وَعَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ نَحْوَهُ
حبان بن موسی، عبدﷲ ، یونس، زہری، ابوعبید (ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام) کہتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ عید کی نماز میں بقرعید کے دن شریک ہوئے انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو ان دونوں عیدوں کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے ان میں سے ایک تو روزوں سے افطار کا دن ہے اور دوسرا وہ دن ہے جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ابوعبید کا بیان ہے کہ پھر میں حضرت عثمان بن عفان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شریک ہوا وہ جمعے کا دن تھا انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو!آج وہ دن ہے جس میں تمھارے لئے دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں باشندگان عوالی میں سے جو شخص جمعہ کا انتظار کرنا چاہے تو انتظار کرے اورجو شخص واپس ہو نا چاہے تو میں اس کو اجازت دیتا ہوں ابوعبید کا بیان ہے کہ پھر میں علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب کے ساتھ(عید میں) شریک ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا کہ نبی نے تم لوگوں کو قربانی کا گوشت تین دن سے زائد کھانے سے منع فرمایا ہے اور معمر سے بواسطہ زہری ابوعبید سے اسی طرح منقول ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment