صحیح بخاری
کتاب
لباس کا بیان
باب
دھاری دار کناری دار چادروں اور شملہ کا بیان۔
حدیث نمبر
5407
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ قَالَ سَهْلٌ هَلْ تَدْرِي مَا الْبُرْدَةُ قَالَ نَعَمْ هِيَ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَکْسُوکَهَا فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ فَجَسَّهَا رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اکْسُنِيهَا قَالَ نَعَمْ فَجَلَسَ مَا شَائَ اللَّهُ فِي الْمَجْلِسِ ثُمَّ رَجَعَ فَطَوَاهَا ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ سَأَلْتَهَا إِيَّاهُ وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا فَقَالَ الرَّجُلُ وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهَا إِلَّا لِتَکُونَ کَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ قَالَ سَهْلٌ فَکَانَتْ کَفَنَهُ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، ابوحازم، سہل بن سعدکہتے ہیں کہ ایک عورت بردہ لے کرآئی، سہل نے پوچھا تم جانتے ہو کہ بردہ کیا چیز ہے، انہوں نے کہا ہاں، بردہ وہ چادر ہے جس کے کناری (جھالر) بنی ہو، اس عورت نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں نے اس کو اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے وہ چادر لے لی اور اس کی آپ کو ضرورت بھی تھی، آپ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ اس کا تہہ بند باندھے ہوئے تھے، قوم میں سے ایک شخص نے اس کو چھوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ! آپ یہ ہمیں پہننے کو دے دیجئے، آپ نے فرمایا اچھا، پھر اس مجلس میں بیٹھے رہے، جب تک کہ ﷲ تعالی نے چاہا، پھر واپس تشریف لے گئے اور وہ چادر لپیٹ کر اس آدمی کے پاس بھیج دی، اس آدمی سے لوگوں نے کہا تو نے اچھا نہیں کیا کہ آپ سے سوال کیا، حالانکہ تو جانتا ہے کہ آپ کسی سائل کو رد نہیں فرماتے، اس آدمی نے کہا بخدا میں نے تو اس لئے مانگاہے کہ جب میں مرجاؤں تو میرا کفن بنے، سہل نے بیان کیا کہ وہ چادر اس کے کفن میں دے دی گئی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment