کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
حسن خلق اور سخاوت کا بیان اور یہ کہ بخل مکروہ ہے۔
حدیث نمبر
5625
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ فَقَالَ الْقَوْمُ هِيَ الشَّمْلَةُ فَقَالَ سَهْلٌ هِيَ شَمْلَةٌ مَنْسُوجَةٌ فِيهَا حَاشِيَتُهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکْسُوکَ هَذِهِ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا فَلَبِسَهَا فَرَآهَا عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ الصَّحَابَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ فَاکْسُنِيهَا فَقَالَ نَعَمْ فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَامَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا مَا أَحْسَنْتَ حِينَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مُحْتَاجًا إِلَيْهَا ثُمَّ سَأَلْتَهُ إِيَّاهَا وَقَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا فَيَمْنَعَهُ فَقَالَ رَجَوْتُ بَرَکَتَهَا حِينَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِّي أُکَفَّنُ فِيهَا
سعید بن ابی مریم، ابوغسان، ابوحازم، سہل بن سعد، کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس ایک بردہ لے کر حاضر ہوئی، سہل نے لوگوں سے پوچھا کہ تم جانتے ہو بردہ کیا چیز ہے، تو لوگوں نے کہا کہ وہ شملہ ہے، سہل نے کہا کہ اس چادر کو کہتے ہیں کہ جس پر حاشیے بنے ہوئے ہوں، اس عورت نے عرض کیا یا رسول ﷲ! میں آپ کو یہ پہننے کے لئے دیتی ہوں، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس کو لے لیا اور آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی، چناچہ آپ نے اس کو پہن لیا، صحابہ میں سے ایک شخص نے دیکھا تو عرض کیا یا رسول ﷲ! یہ کتنا عمدہ ہے آپ یہ مجھے دے دیں، آپ نے فرمایا اچھا، جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کھڑے ہوئے (اور اندر تشریف لے گئے) تو صحابہ نے ان کو ملامت کی اور کہا کہ تو نے اچھا نہیں کیا، جب تو نے دیکھا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اس چادر کو قبول کرلیا اور آپ کو اسکی ضرورت بھی تھی، لیکن آپ نے اس کے باوجود مانگ لیا اور تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ سے جب کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو اسے روکتے نہیں، انہوں نے کہا جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا تو میں اس کی برکت کا امیدوار ہوا تاکہ اس میں اپنا کفن بنالوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment