کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان۔
حدیث نمبر
5674
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَکَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً قَالَ أَنَسٌ فَنَظَرْتُ إِلَی صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَائِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَکَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِکَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَائٍ
عبدالعزیزبن عبد ﷲ اویسی، مالک، اسحق بن عبد ﷲ بن ابی طلحہ انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلاجارہا تھا اس حال میں کہ آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے حاشیے گھنے بنے ہوئے تھے ایک اعرابی آپ سے ملا اور آپ کی چادرپکڑ کر زور سے کھینچی- انس کا بیان ہے کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھے پر دیکھا کہ زرو سے کھینچی- انس کا بیان ہے کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے کاندھے پردیکھا کہ زور سے کھینچنے کے سبب سے نشان پڑگئے تھے، پھراس نے کہا کہ اے محمد (صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم) ﷲ کامال جوتیرے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلاؤ، میں نے آپ کی طرف مڑ کر دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے، پھرآپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو دئیے جانے کا حکم دیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment