کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان۔
حدیث نمبر
5673
حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَکْتُ وَقَعْتُ عَلَی أَهْلِي فِي رَمَضَانَ قَالَ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَيْسَ لِي قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا أَجِدُ فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْعَرَقُ الْمِکْتَلُ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ تَصَدَّقْ بِهَا قَالَ عَلَی أَفْقَرَ مِنِّي وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ فَأَنْتُمْ إِذًا
موسی، ابر ہیم، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور کہا کہ میں تو ہلاک ہوگیا رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی، آپ نے فرمایا ایک غلام آزاد کر، اس نے کہا میرے پاس غلام نہیں، فرمایا پھردو مہینے متواتر روزے رکھ اس نے کہا اسکی صلاحیت نہیں رکھتا فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے کہا میرے پاس یہ بھی نہیں ایک عرق لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں (ابراہیم نے کہا کہ عرق ایک پیمانہ ہے) آپ نے پوچھا وہ سائل کہاں ہے؟ اس کو لے جا اور صدقہ کر دے اس نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں! خدا کی قسم مدینہ کے ان ریگستانوں کے درمیان کوئی گھر ایسا نہیں جومجھ سے زیادہ محتاج ہو تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں کھل گئیں (اور فرمایا کہ) پھرتم ہی سہی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment