کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو عتاب کے سبب لوگوں کی طرف متوجہ ہو
حدیث نمبر
5686
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَتْ عَائِشَةُ صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَرَخَّصَ فِيهِ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنْ الشَّيْئِ أَصْنَعُهُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
عمر بن حفص، اعمش، مسلم، مسروق، حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے کوئی کام کا کیا تھا اور لوگوں کو اس کے کرنے کی اجازت بھی دی تھی، لیکن لوگوں نے اس سے پرہیز کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے، ﷲ کی حمد بیان کی پھر فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا کہ اس کام سے پرہیز کرتے ہیں، جو میں کرتا ہوں، خدا کی قسم میں ﷲ کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان سے زیاد ڈرنے والا ہوں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment