کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
اجازت لینے کا بیان
باب
جب تین آدمیوں سے زیادہ ہوں تو چپکے سے بات کرنے اور سرگوشی میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حدیث نمبر
5872
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قِسْمَةً فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ قُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي مَلَإٍ فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ حَتَّی احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَی مُوسَی أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ
عبدان، ابوحمزہ، اعمش، شقیق، عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن کچھ مال تقسیم کیا، تو ایک انصاری نے کہا کہ یہ وہ تقسیم ہے جس سے خدا کی خوشنودی پیش نظر نہیں ہے میں نے کہا بخدا میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا (اور آپ سے بیان کروں گا) چناچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کی جماعت کے ساتھ تھے، میں نے چپکے سے آپ سے بات کی، تو موسیٰ علیہ السلام پر خدا کی رحمت ہو، ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment