Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1020,TotalNo:5671


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
ادب کا بیان
باب
مسکراہٹ اور ہنسی کا بیان۔
حدیث نمبر
5671
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَکْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ عَلَی صَوْتِهِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ فَقَالَ أَضْحَکَ اللَّهُ سِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَائِ اللَّاتِي کُنَّ عِنْدِي لَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ تَبَادَرْنَ الْحِجَابَ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَمْ تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ إِنَّکَ أَفَظُّ وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيهٍ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَکَ الشَّيْطَانُ سَالِکًا فَجًّا إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّکَ
اسماعیل، ابراہیم، صالح بن کیسان، ابن شہاب، عبدالحمیدبن عبدالرحمن بن زیدبن خطاب، محمد بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے داخلہ کی اجازت چاہی، اس وقت قریش کی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، جو کچھ دریافت کر رہی تھیں، اور بہت زیادہ سوال کر رہی تھیں ان عورتوں کی آواز آپ کی آواز پرغالب تھی، جب حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے اجازت چاہی تو یہ عورتیں جلدی سے پردہ میں چلی گئیں، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انکواجازت دی جب یہ اندر پہنچے تو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہنس رہے تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پرفداہوں ﷲ آپ کو ہنساتا ہوارکھے (کیابات ہے) آپ نے فرمایا مجھے ان عورتوں پرتعجب ہے کہ جونہی انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے پردہ میں چلی گئیں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیایارسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ آپ سے ڈریں، پھر ان عورتوں کی طرف متوجہ ہو کرکہا کہ اے اپنی جان کی دشمن عورتو!کیاتم مجھ سے ڈرتی ہواور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں ڈرتی ہو؟ ان عورتوں نے جواب دیا کہ تم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ سخت اور غضب والے ہو- نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب ادھرسنو!قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان تم سے کبھی راہ چلتے ہوئے نہیں ملتا، جس راہ پرتم چلے ہووہ دوسری طرف چل دیتا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment