Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1289,TotalNo:5940


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دعاؤں کا بیان
باب
فتنوں سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر
5940
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَحْفَوْهُ الْمَسْأَلَةَ فَغَضِبَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْئٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَکُمْ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا کُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْکِي فَإِذَا رَجُلٌ کَانَ إِذَا لَاحَی الرِّجَالَ يُدْعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ حُذَافَةُ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ کَالْيَوْمِ قَطُّ إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّی رَأَيْتُهُمَا وَرَائَ الْحَائِطِ وَکَانَ قَتَادَةُ يَذْکُرُ عِنْدَ هَذَا الْحَدِيثِ هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ
حفص بن عمر، ہشام، قتادہ، انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ لوگوں نے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ پوچھنا شروع کیا جب لوگ بہت زیادہ سوال کرنے لگے تو آپ کو غصہ آگیا، اور منبر پر چڑھ کرفرمایا، آج تم سے جو بھی پوچھو گے میں اس کو کھول کر بیان کردوں گا، راوی کا بیان ہے کہ میں دائیں بائیں نظر دوڑا کردیکھنے لگا، تو نظر آیا کہ ہر شخص اپنے کپڑے میں منہ لپیٹے ہوئے ہے، اور رورہا ہے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جس کو لوگ لڑائی کے وقت اس کے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرتے تھے چناچہ اس نے پوچھا، یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا حزافہ! پھر عمر کہنے لگے کہورضینا با للہ ربا الخ یعنی ہم ﷲ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوئے ہم فتنوں سے ﷲ کی پناہ مانگتے ہیں، تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے آج کی طرح کبھی خیر و شر نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور جہنم کی صورت پیش کی گئی، یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو دیوار کی پیچھے دیکھا اور قتادہ اس حدیث کی بیان کرنے کے وقت یہ آیت بھی بیان کرتے تھے- ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ﴾-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment