Thursday, September 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1290,TotalNo:5941


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دعاؤں کا بیان
باب
لوگوں کے غلبہ سے پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر
5941
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ الْتَمِسْ لَنَا غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِکُمْ يَخْدُمُنِي فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَائَهُ فَکُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا نَزَلَ فَکُنْتُ أَسْمَعُهُ يُکْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّی أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَدْ حَازَهَا فَکُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي وَرَائَهُ بِعَبَائَةٍ أَوْ کِسَائٍ ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَائَهُ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالصَّهْبَائِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَدَعَوْتُ رِجَالًا فَأَکَلُوا وَکَانَ ذَلِکَ بِنَائَهُ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّی إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ هَذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ
 قتیبہ بن سعید،اسماعیل بن جعفر،عمرو بن ابی عمر،انس بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ابوطلحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، اپنے لڑکوں میں سے ایک لڑکا میری خدمت کے لئے دیدو چناچہ ابوطلحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مجھ کو اپنے پیچھے سوارکرکے لے گئے چناچہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرنے لگا جب بھی آپ اترتے، تو آپ کو اکثر یہ فرماتے ہوئے سنتا کہ اللھم انی اعوذبک من الھم والحزن والعجز والکسل والبخل والجبن وضلو الدین وغلبۃ الرجال میں برابر آپ کی خدمت میں رہا یہاں تک کہ ہم جب خیبر سے واپس ہوئے تو آپ نے صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بنت حیی کو ساتھ لے کر جن سے نکاح کیا تھا میں آپ کو دیکھ رہا تھا، کہ اپنی چادر یا کمبل کا پر دہ کرکے اپنے پیچھے ان کو سوار کرلیتے تھے، یہاں تک کہ ہم جب مقام صہباء میں پہنچے، تو آپ نے حیس تیار کرا کر اس کو دسترخوان پر رکھوایا، پھر مجھے بھیجا، تو میں لوگوں کو بلا کر لے آیا لوگوں نے کھانا کھایا، یہ ولیمہ کی دعوت تھی، پھر وہاں سے آگے بڑھے یہاں تک کہ جب احد پہاڑ نظر آیا، تو فرمایا یہ وہ پہاڑ ہے جو مجھ سے محبت رکھتا ہے، اور ہم بھی اسے محبوب رکھتے ہیں جب مدینہ کے قریب پہنچے، تو فرمایا، یا ﷲ میں اس کے دونوں پہا ڑوں کے درمیان کی زمین کو حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا اے ﷲ مدینہ والوں کو ان کے مد میں، اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment