Saturday, October 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1784,TotalNo:6435


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
جب چند لوگ ایک شخص کو قتل کریں تو کیا ان سبھی سے بدلہ یا قصاص لیاجائے گا۔
حدیث نمبر
6435
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَائٍ مِنْ آلِ أَبِي قِلَابَةَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا فَقَالَ مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ قَالَ نَقُولُ الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَائُ قَالَ لِي مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَکَ رُئُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَی رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَی لَمْ يَرَوْهُ أَکُنْتَ تَرْجُمُهُ قَالَ لَا قُلْتُ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَی رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ أَکُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ قَالَ لَا قُلْتُ فَوَاللَّهِ مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي إِحْدَی ثَلَاثِ خِصَالٍ رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ أَوْ رَجُلٌ زَنَی بَعْدَ إِحْصَانٍ أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنْ الْإِسْلَامِ فَقَالَ الْقَوْمُ أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي السَّرَقِ وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُکُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ حَدَّثَنِي أَنَسٌ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُکْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعُوهُ عَلَی الْإِسْلَامِ فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا قَالُوا بَلَی فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَصَحُّوا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِکُوا فَجِيئَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّی مَاتُوا قُلْتُ وَأَيُّ شَيْئٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَائِ ارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا وَسَرَقُوا فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ کَالْيَوْمِ قَطُّ فَقُلْتُ أَتَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ قَالَ لَا وَلَکِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَی وَجْهِهِ وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قُلْتُ وَقَدْ کَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَقُتِلَ فَخَرَجُوا بَعْدَهُ فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ فَرَجَعُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَاحِبُنَا کَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ قَالُوا نَرَی أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ فَأَرْسَلَ إِلَی الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ فَقَالَ آنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا قَالُوا لَا قَالَ أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنْ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ فَقَالُوا مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ قَالَ أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْکُمْ قَالُوا مَا کُنَّا لِنَحْلِفَ فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ قُلْتُ وَقَدْ کَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَائِ فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلَهُ فَجَائَتْ هُذَيْلٌ فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ فَرَفَعُوهُ إِلَی عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ وَقَالُوا قَتَلَ صَاحِبَنَا فَقَالَ إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ فَقَالَ يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ قَالَ فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنْ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ فَافْتَدَی يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ فَأَدْخَلُوا مَکَانَهُ رَجُلًا آخَرَ فَدَفَعَهُ إِلَی أَخِي الْمَقْتُولِ فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ قَالُوا فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِنَخْلَةَ أَخَذَتْهُمْ السَّمَائُ فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَی الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمَاتُوا جَمِيعًا وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ فَکَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ قُلْتُ وَقَدْ کَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا فَمُحُوا مِنْ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَی الشَّأْمِ
قتیبہ بن سعید، ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم اسدی، حجاج بن ابوعثمان، ابورجاء جوآل ابی قلابہ سے تھے، ابوقلابہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن تخت پرعمر بن عبدالعزیز بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو اذن عام دیا کہ اندرآئیں جب لوگ آئے تو کہا کہ تم قسامہ کے متعلق کیا کہتے ہو، لوگوں نے کہا کہ قسامہ کے متعلق ہمارایہ خیال ہے کہ اس کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے بھی اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے پھر مجھ سے کہا کہ اے ابوقلابہ تم کیا کہتے ہو؟ اور مجھے لوگوں کے سامنے کھڑا کیا، میں نے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کے پاس عرب کے شرفاء اور سردار موجود ہیں، اگران میں سے پچاس آدمی دمشق کے شادی شدہ آدمی کے متعلق گواہی دیں کہ اس نے زنا کیا ہے لیکن دیکھا نہیں تو کیا اسے سنگسار کر دیا جائے گا، انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، میں نے کہا کہ اگر ان میں سے پچاس آدمی حمص کے ایک آدمی کے متعلق گواہی دیں کہ اس نے چوری کی تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے جب کہ کسی نے دیکھا نہیں، انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا بخدا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بجز تین حالتوں کے کسی اور حالت میں کسی کو قتل نہیں کیا، ایک وہ جو قصاص میں قتل کیا گیا، جس نے شادی شدہ ہوکر زنا کیا، یا وہ جس نے ﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کی، اور اسلام سے پھر گیا، کچھ لوگوں نے کہا کیا انس بن مالک نے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ نے چوری میں ہاتھ کاٹا ہے اور آنکھیں پھڑوا دی ہیں، پھر انہیں دھوپ میں ڈال دیا؟ میں نے کہا میں تم سے انس کی حدیث بیان کرتا ہوں مجھ سے انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کی بیعت کی، زمین انہیں راس نہ آئی اور ان کے جسم مریض ہوگئے تو انہوں نے آپ سے شکایت کی، آپ نے فرمایا کہ تم لوگ ہمارے چرواہے کے پاس اونٹوں میں کیوں نہیں جاتے کہ ان کا دودھ اور پیشاب پیو، ان لوگوں نے کہا کہ ضرور، چناچہ وہ لوگ گئے اور انہوں نے اونٹوں کا پیشاب اور ان کا دودھ پیا، اور تندرست ہوگئے اور نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے اور جانور لے کر بھاگ گئے، یہ خبر آپ کوپہنچی تو ان کے پیچھے آپنے آدمی بھیجے جو انہیں پکڑ کر لائے، آپ نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں اور انہے دھوپ میں ڈال دیاجائے، اور ان کی آنکھیں پھڑوا دی جائیں، یہاں تک کہ وہ مرگئے، میں نے کہا اس سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں جو انہوں نے کی تھی کہ دین اسلام سے پھر گئے، قتل کیا اور چوری کی، عنبہ نے کہا کہ بخدا میں نے آج کی طرح کبھی نہیں سنا، ابوقلابہ کا بیان ہے میں نے کہا اے عنبہ تو میری حدیث کو رد کرتا ہے، عنبہ نے کہا کہ نہیں بلکہ تم نے حدیث کو اس طرح بیان کیا ہے جو حقیقت میں ہے- بخدا جب تک یہ بوڑھا ان (شامیوں) میں زندہ ہے یہ لوگ بھلائی کے ساتھ ہوں گے، میں نے کہا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ایک سنت یہ ہے کہ آپ کے پاس انصار کے کچھ لوگ آئے آپ سے گفتگو کی، پھران میں ایک شخص باہر نکلا اور وہ قتل کردیا گیا، اس کے بعد یہ لوگ باہر نکلے تو دیکھا کہ ان کا ساتھی خون میں تڑپ رہا ہے، وہ لوگ لوٹ کرآپ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمارا جو ساتھی ہمارے ساتھ گفتگو کر رہا تھا وہ یہاں سے اٹھ کر باہر نکلا، اب ہم نے اسے دیکھا کہ وہ خون میں تڑپ رہا ہے، یہ سن کرنبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے، اور فرمایا کہ کس کے متعلق تم گمان کرتے ہو، یا فرمایا کہ کس کے متعلق تمہارا خیال ہے، کہ اسنے قتل کیا ہے، آپ نے یہود کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ تم نے اس آدمی کو قتل کیا، انہوں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا کہ کیا تم اس سے راضی ہو کہ یہود میں سے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ ان لوگوں نے اس کو قتل نہیں کیا انہوں نے کہا کہ یہود اگر ہم سب کو قتل کردیں تو پھر بھی قسم کھا لیتے ہیں ان کو باک نہ ہوگا، آپ نے فرمایا کہ پھرتم لوگ پچاس قسمیں کھا کر دیت کے مستحق ہو جاؤ، ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو قسم نہیں کھاتے، چناچہ آپ نے ان کی طرف سے اپناخون بہا ادا کر دیا، ابوقلابہ کہتے ہیں میں نے کہا ہذیل کے لوگوں نے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت میں سے اپنے الگ کو دیا تھا، وہ مقام بطحاء میں کسی یمنی کے گھر اترا یمن والوں میں سے کسی کو خبر ہوئی تو اس پر تلوار سے حملہ کر کے اس کو قتل کر ڈالا، ہذیل کے لوگ آئے اور اس یمنی کو پکڑ کر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس حج کے زمانہ میں لے گئے اور ان لوگوں نے کہا اس نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، اس یمنی نے کہا کہ ہذیلوں نے اس کو چھوڑ دیا، حضرت عمرنے کہا کہ ہذیلوں میں سے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ انہوں نے اس کو نہیں چھوڑا، انچاس آدمیوں نے انہیں میں سے قسم کھائی، انہی لوگوں میں سے ایک شخص ملک شام سے آیا تھا، جس سے ان لوگوں نے قسم کھانے کو کہا، اس نے ایک ہزار درہم دے کر قسم کھانے سے معافی لے لی تو ان لوگوں نے ایک دوسرے آدمی کو اس کی جگہ پر شامل کرلیا، اور مقتول کے بھائی کے پاس لے جا کر اس کا ہاتھ اس سے ملوا دیا، لوگوں نے کہا کہ وہ دونوں اور پچاس آدمی بھی چلے جنہوں نے قسم کھائی تھی، یہاں تک کہ وہ لوگ مقام نحلہ میں پہنچے تو ان لوگوں کو بارش نے آگھیرا، وہ لوگ پہاڑ کی ایک غار میں جا گھسے غار ان پچاس آدمیوں پردھنس گیا جنہوں نے قسم کھائی تھی، چناچہ وہ لوگ مرگئے اور وہ دونوں ہاتھ ملانے والے باقی بچ گئے اور ان دونوں کو ایک پتھر آکر لگا جس سے مقتول کے بھائی کا پاؤں ٹوٹ گیا، وہ ایک سال زندہ رہا پھر مرگیا، ابوقلابہ کا بیان ہے کہ میں کہتا ہوں کہ عبدالملک بن مروان نے ایک شخص کو قسامہ کی بناء پر قصاص دلوایا، پھر اپنی اس حرکت پر پیشیمان ہوا، چناچہ پچاس قسم کھانے والوں کے متعلق حکم دیا گیا تو ان لوگوں کا نام دفتر سے کاٹ دیا گیا اور انکو شہر بدر کر دیا گیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment