کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب
جس کے حساب میں پوچھ گچھ کی گئی تو اسےعذاب ہوگا۔
حدیث نمبر
6138
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ کَبْوًا فَيَقُولُ اللَّهُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَی فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَی فَيَقُولُ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَکَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَکَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ تَسْخَرُ مِنِّي أَوْ تَضْحَکُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِکُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِکَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ وَکَانَ يَقُولُ ذَاکَ أَدْنَی أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، ابراہیم، عبیدہ، عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں، جوسب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا وہ آدمی ہوگا جو دوزخ سے اوندھے منہ نکلے گا اور ﷲ تعالی فرمائیں گے جاو جنت میں داخل ہوجاو وہ جنت میں آئے گا اس کو خیال آئے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے چناچہ وہ لوٹ کر آئے گا اور عرض کرے گا یارب میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ ﷲ فرمائیں گے کہ جا اور جنت میں داخل ہوجا وہ جنت میں جائیگا تو اس کو خیال ہوگا کہ بھری ہوئی ہے چناچہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا یارب میں نے اس کو بھرا ہوا پایا۔ ﷲ فرمائیں گے کہ جا اور جنت میں داخل ہوجا وہ جنت میں جائیگا تو اس کو خیال ہوگا کہ بھری ہوئی ہے چناچہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا کہ میں نے اس کو بھرا ہوا پایا ﷲ تعالی فرمائیں گے کہ جا جنت میں داخل ہوجا میں تیرے لیے دنیا کے برابر اور اس کے دس گنا ہے یا فرمایا کہ تیرے لیے دنیا کی مثل دس گنا ہے۔ وہ کہے گا کہ آپ مجھ سے مذاق کرتے ہیں یا ہنسی کرتے ہیں حالانکہ آپ بادشاہ ہیں۔ میں نے رسول ﷲ کو دیکھا کہ آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور کہا جاتا تھا کہ یہ جنت والوں کا ادنی مرتبہ ہے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment