کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
فرائض کی تعلیم کا بیان
باب
جب کوئی (کافر) کسی مسلمان کے ہاتھ پراسلام لائے۔
حدیث نمبر
6310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَائَهَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْطَی الْوَرِقَ قَالَتْ فَأَعْتَقْتُهَا قَالَتْ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا فَقَالَتْ لَوْ أَعْطَانِي کَذَا وَکَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَ وَکَانَ زَوْجُهَا حُرًّا
محمد، جریر، منصور، ابراہیم، اسود، عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا ہے کہ میں نے بریرہ کو خرید نا چاہا تو اس کے مالکوں نے اس کی ولا کی شرط اپنے لئے کرلی، حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو خرید کر آزاد کر دو اس لئے کہ ولاء اس کے لئے جو چاندی (یعنی قیمت) دے- حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے اس کو خرید کر آزاد کردیا، پھر اس کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بلا بھیجا اور شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا تو اس نے کہا کہ اگر وہ مجھ کو اتنا اتنا دے تو بھی میں اسکے پاس نہ رہوں گی، پھر اس نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment