کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
شادی شدہ عورت کوزناء سے حاملہ ہونےپر سنگسار کرنے کا بیان
حدیث نمبر
6375
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ أُقْرِئُ رِجَالًا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي مَنْزِلِهِ بِمِنًی وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا إِذْ رَجَعَ إِلَيَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ لَوْ رَأَيْتَ رَجُلًا أَتَی أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْيَوْمَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ لَکَ فِي فُلَانٍ يَقُولُ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ لَقَدْ بَايَعْتُ فُلَانًا فَوَاللَّهِ مَا کَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَکْرٍ إِلَّا فَلْتَةً فَتَمَّتْ فَغَضِبَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي إِنْ شَائَ اللَّهُ لَقَائِمٌ الْعَشِيَّةَ فِي النَّاسِ فَمُحَذِّرُهُمْ هَؤُلَائِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ أُمُورَهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ وَغَوْغَائَهُمْ فَإِنَّهُمْ هُمْ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَی قُرْبِکَ حِينَ تَقُومُ فِي النَّاسِ وَأَنَا أَخْشَی أَنْ تَقُومَ فَتَقُولَ مَقَالَةً يُطَيِّرُهَا عَنْکَ کُلُّ مُطَيِّرٍ وَأَنْ لَا يَعُوهَا وَأَنْ لَا يَضَعُوهَا عَلَی مَوَاضِعِهَا فَأَمْهِلْ حَتَّی تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ فَتَخْلُصَ بِأَهْلِ الْفِقْهِ وَأَشْرَافِ النَّاسِ فَتَقُولَ مَا قُلْتَ مُتَمَکِّنًا فَيَعِي أَهْلُ الْعِلْمِ مَقَالَتَکَ وَيَضَعُونَهَا عَلَی مَوَاضِعِهَا فَقَالَ عُمَرُ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَأَقُومَنَّ بِذَلِکَ أَوَّلَ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فِي عُقْبِ ذِي الْحَجَّةِ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ حِينَ زَاغَتْ الشَّمْسُ حَتَّی أَجِدَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ جَالِسًا إِلَی رُکْنِ الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ حَوْلَهُ تَمَسُّ رُکْبَتِي رُکْبَتَهُ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ مُقْبِلًا قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ لَيَقُولَنَّ الْعَشِيَّةَ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ فَأَنْکَرَ عَلَيَّ وَقَالَ مَا عَسَيْتَ أَنْ يَقُولَ مَا لَمْ يَقُلْ قَبْلَهُ فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمَّا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُونَ قَامَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَائِلٌ لَکُمْ مَقَالَةً قَدْ قُدِّرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا لَا أَدْرِي لَعَلَّهَا بَيْنَ يَدَيْ أَجَلِي فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ وَمَنْ خَشِيَ أَنْ لَا يَعْقِلَهَا فَلَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَکْذِبَ عَلَيَّ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ فَکَانَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَی إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ وَاللَّهِ مَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْکِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَالرَّجْمُ فِي کِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی إِذَا أُحْصِنَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا قَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ کَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ ثُمَّ إِنَّا کُنَّا نَقْرَأُ فِيمَا نَقْرَأُ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ أَنْ لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ فَإِنَّهُ کُفْرٌ بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ أَوْ إِنَّ کُفْرًا بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ أَلَا ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُطْرُونِي کَمَا أُطْرِيَ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ قَائِلًا مِنْکُمْ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ بَايَعْتُ فُلَانًا فَلَا يَغْتَرَّنَّ امْرُؤٌ أَنْ يَقُولَ إِنَّمَا کَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَکْرٍ فَلْتَةً وَتَمَّتْ أَلَا وَإِنَّهَا قَدْ کَانَتْ کَذَلِکَ وَلَکِنَّ اللَّهَ وَقَی شَرَّهَا وَلَيْسَ مِنْکُمْ مَنْ تُقْطَعُ الْأَعْنَاقُ إِلَيْهِ مِثْلُ أَبِي بَکْرٍ مَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُبَايَعُ هُوَ وَلَا الَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلَا وَإِنَّهُ قَدْ کَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّی اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ يَا أَبَا بَکْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی إِخْوَانِنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ فَذَکَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَا أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْنَا نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَا لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمْ اقْضُوا أَمْرَکُمْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقُلْتُ مَا لَهُ قَالُوا يُوعَکُ فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَکَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِکُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَأَنْ يَحْضُنُونَا مِنْ الْأَمْرِ فَلَمَّا سَکَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ وَکُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَکْرٍ وَکُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی رِسْلِکَ فَکَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَکَانَ هُوَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ وَاللَّهِ مَا تَرَکَ مِنْ کَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّی سَکَتَ فَقَالَ مَا ذَکَرْتُمْ فِيکُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْ رَضِيتُ لَکُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا فَلَمْ أَکْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا کَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِکَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَی قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَکْرٍ اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ إِلَيَّ نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْکُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَکَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ حَتَّی فَرِقْتُ مِنْ الِاخْتِلَافِ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَدَکَ يَا أَبَا بَکْرٍ فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ وَنَزَوْنَا عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ قَتَلْتُمْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَقُلْتُ قَتَلَ اللَّهُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ عُمَرُ وَإِنَّا وَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا فِيمَا حَضَرْنَا مِنْ أَمْرٍ أَقْوَی مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِي بَکْرٍ خَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ وَلَمْ تَکُنْ بَيْعَةٌ أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلًا مِنْهُمْ بَعْدَنَا فَإِمَّا بَايَعْنَاهُمْ عَلَی مَا لَا نَرْضَی وَإِمَّا نُخَالِفُهُمْ فَيَکُونُ فَسَادٌ فَمَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَلَی غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُتَابَعُ هُوَ وَلَا الَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلَا
عبدالعزیز بن عبد ﷲ ، ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، عبید ﷲ بن عبد ﷲ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں مہاجرین کے کچھ لوگوں کو پڑھاتا تھا جن میں عبدالرحمن بن عوف بھی تھے- ایک دن میں ان کے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ اور وہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس تھے اس حج میں (حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے) آخری بار کیا تھا، عبدالرحمن میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش، تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمومنین کے پاس آیا اور کہا کہ اے امیرالمومنین آپ کو فلاں کے متعلق خبر ہے جو کہتا ہے کہ اگر عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مرجائیں تو میں فلاں کی بیعت کرلوں، خدا کی قسم ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی جو پوری ہوگئی، چناچہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کوغصہ آگیا اور کہا کہ انشاء ﷲ میں شام کے وقت لوگوں میں کھڑا ہوں گا اور ان کو ڈراؤں گا جو مسلمانوں کے امور کو غصب کرنا چاہتے ہیں، عبدالرحمن کا بیان ہے کہ میں نے کہا کہ اے امیرالمومنین ایسا نہ کیجئے اس لئے کہ موسم حج میں جبکہ عام اور پست قسم کے لوگ جمع ہوجاتے ہیں جس وقت آپ کھڑے ہوں گے تو اس قسم کے لوگ کی اکثریت آپ کے پاس ہوگی اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کھڑے ہوکر جو بات کہیں گے اس کو اڑا کر دوسری طرف لے جائیں گے اور اس کی حفاظت نہیں کریں گے اور اس کو اس کے (مناسب) مقام پر نہیں رکھیں گے، اس لئے آپ انتظار کریں یہاں تک کہ مدینہ پہنچیں، اس لئے کہ وہ دارالہجرت والسنت ہے صرف سمجھدار اور سربرآوردہ لوگوں کے سامنے آپ جو کہنا چاہیں کہیں تاکہ اہل علم آپ کی گفتگو کو محفوظ رکھیں- اور اس کو اس کے مناسب مقام پررکھیں، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم، اگر ﷲ نے چاہا تو مدینہ میں سب سے پہلے میں ہی بیان کروں گا، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ذی الحجہ کے آخر میں مدینہ پہنچے، جب جمعہ کا دن آیا تو آفتاب کے ڈھلتے ہی ہم مسجد کی طرف جلدی سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کومنبر کے ستوں کے پاس بیٹھا ہوا پایا، میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا میرا گھٹنا ان کے گھٹنے سے ملا ہوا تھا، فورا ہی حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن خطاب آئے جب میں نے ان کو آتے ہوئے دیکھا تو میں نے سعید بن زید بن عمروبن نفیل سے کہا کہ آج حضرت عمر ایک ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے کبھی نہیں کہی ہوگی، جب سے خلیفہ ہوئے ہیں، سعید نے میری بات سے انکار کیا اور کہا کہ مجھے امید نہیں ہے کہ ایسی بات کہیں گے جو اس سے پہلے نہ کہی ہو، چناچہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ منبر پر بیٹھ گئے، جب لوگ خاموش ہوگئے تو کھڑے ہوئے اور ﷲ کی حمد بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر کہا امابعد، میں تم سے ایسی بات کہنے والا ہوں جس کا کہنا میرے مقدر میں نہ تھا، میں یہ نہیں جانتا کہ شاید یہ میری موت کے آگے ہو جس نے اسکو سمجھا اور یاد کیا تو وہ جہاں بھی پہنچے دوسروں سے بیان کرے اور جس شخص کوخطرہ ہو کہ وہ اس کونہیں سمجھے گا تو میں کسی کے لئے حلال نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ میرے متعلق جھوٹ بولے- بے شک ﷲ تعالی نے محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے اور ان پر ﷲ نے اپنی کتاب نازل کی ہے ﷲ نے جوآیت نازل کی اس میں رجم کی بھی آیت تھی ہم نے اس کو پڑھا اور سمجھا اور محفوظ کیا، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا اور ہم نے بھی ان کے بعد سنگسار کیا، مجھے اندیشہ ہے کہ مدت دراز کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک کہنے والا کہے گا کہ خدا کی قسم ہم آیت رجم کتاب ﷲ میں نہیں پاتے وہ اس فرض کو چھوڑ کر گمراہ ہوگا جو ﷲ نے نازل کیا ہے اور رجم کتاب ﷲ میں زنا کرنے والے مرد و عورت پر جبکہ شادی شدہ ہوں واجب ہے بشرطیکہ گواہ قائم ہوجائیں یاحمل قرار پا جائے یا اقرار کرے، پھر ہم کتاب ﷲ میں جو پڑہتے تھے اس میں یہ بھی تھا کہ تم اپنے باپوں سے نفرت نہ کرو کیونکہ تمہارا اپنے باپوں سے نفرت کرنا تمہارے لئے کفر ہے یا یہ فر مایا کہ بے شک تمہارے لئے یہ کفر ہے کہ تم اپنے باپوں سے نفرت کرو، پھر سن لو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو، جس طرح عیسیٰ بن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا ہے اور تم صرف ﷲ کا بندہ اور اس کا رسول کہو پھر کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ خدا کی قسم اگرعمر مرجائیں تو میں فلاں کی بیعت کرلوں تمہیں کوئی شخص یہ کہہ کر دھوکہ نہ دے کہ ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی اور پھر پوری ہوگئی، سن لو کہ وہ ایسی ہی تھی لیکن ﷲ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے جس میں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جیسی فضیلت ہو، جس شخص نے کسی کے ہاتھ پر مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بیعت کرلی تو اس کی بیعت نہ کی جائے- اس خوف سے کہ وہ قتل کردیے جائیں گے جس وقت ﷲ نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی تو اس وقت وہ ہم سب سے بہتر ہے- مگر انصار نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر نے بھی ہماری مخالفت کی اور مہاجرین ابوبکر کے پاس جمع ہوئے تو میں نے ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے ابوبکر ہم لوگ اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، ہم لوگ انصار کے پاس جانے کے ارادے سے چلے جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک بخت آدمی ہم سے ملے، ان دونوں نے وہ بیان کیا جس کی طرف وہ لوگ مائل تھی پھرانہوں نے پوچھا اے جماعت مہاجرین کہاں کا قصد ہے ہم نے کہا کہ اپنے انصار بھائیوں کے پاس جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا ہم تمہارے لئے مناسب نہیں کہ ان کے قریب جاؤ تم اپنے امر کا فیصلہ کرو میں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم ان کے پاس جائیں گے چناچہ ہم چلے یہاں تک کہ سقیقہ بنی ساعدہ میں ہم ان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو ان کے درمیان دیکھا کہ کمبل میں لپٹا ہوا ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ سعد بن عبادہ، میں نے کہا کہ ان کو کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ ان کو بخار ہے ہم تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ان کا خطیب کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور ﷲ کی حمدوثناء کرنے لگا جس کا وہ سزاوار ہے- پھر کہا امابعد، ہم ﷲ کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین وہ گروہ ہو کہ تمہاری قوم کے کچھ آدمی فقر کی حالت میں اس ارادہ سے نکلے کہ ہمیں ہماری جماعت کو جڑ سے جدا کردیں اور ہماری حکومت ہم سے لے لیں- جب وہ خاموش ہوا تو میں نے بولنا چاہا، میں نے ایک بات سوچی رکھی کہ جس کو میں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا- اور میں ان کا ایک حد تک لحاظ کرتا تھا، جب میں نے بولنا چاہا تو ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے گفتگو کی وہ مجھ سے زیادہ بردباراور باوقار تھے- خدا کی قسم جو بات میری سمجھ میں اچھی معلوم ہوتی تھی اسی طرح یا اس سے بہتر پیرایہ میں فی البدیہہ بیان کی یہاں تک کہ وہ چپ ہوگئے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے جو خوبیاں بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو لیکن یہ امر (خلافت) صرف قریش کے لئے مخصوص ہے یہ لوگ عرب میں نسب اور گھر کے لحاظ سے اوسط ہیں میں تمہارے لئے ان دو آدمیوں میں ایک سے راضی ہوں ان دونوں میں کسی سے بیعت کرلو، چناچہ انہوں نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے (عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں) مجھے اس کے علاوہ انکی کوئی بات ناگوار نہ ہوئی، خدا کی قسم میں اس جماعت کی سرداری پر جس میں ابوبکر ہوں اپنی گردن اڑائے جانے کو ترجیح دیتا تھا، یا ﷲ مگر میرا یہ نفس موت کے وقت مجھے اس چیز کو اچھا کر دکھائے جس کو میں اب نہیں پاتا ہوں انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ ہم اس کی جڑ اور اس کے بڑے ستون ہیں اے قریش ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے شوروغل زیادہ ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف کا خوف ہوا میں نے کہا اے ابوبکر اپنا ہاتھ بڑھائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین نے بھی بیعت کی پھر انصار نے ان سے بیعت کی اور ہم سعد بن عبادہ پر غالب آگئے، کسی کہنے والے نے کہا کہ تم نے سعد بن عبادہ کو قتل کرڈالا، میں نے کہا ﷲ نے سعد بن عبادہ کو قتل کیا، عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا جو معاملہ ہوا تھا ہمیں اندیشہ ہوا کہ اگر ہم قوم سے جدا ہوئے اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی بیعت نہ کی تو یہ لوگ ہمارے پیچھے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے اس صورت میں یا تو ہم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلیں جوہماری مرضی کے خلاف ہوتا یا ہم اس کی مخالفت کرتے اور فساد ہوتا، جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی سے بیعت کی اسکی پیروی نہ کی جائے نہ اور اسکی جس نے بیعت کی اس خوف کہ وہ قتل کئے جائیں گے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment