کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
جس کا کوئی آدمی قتل کیا گیا تو اس کو دو امر یعنی قصاص یا دیت میں سے ایک کا اختیار ہے
حدیث نمبر
6418
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فَتْحِ مَکَّةَ قَتَلَتْ خُزَاعَةُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَکَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَی شَوْکُهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا يُودَی وَإِمَّا يُقَادُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ اکْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّمَا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ وَتَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْبَانَ فِي الْفِيلِ قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْقَتْلَ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ
ابونعیم، شیبان، یحییٰ، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک شخص کوقتل کردیا (دوسری سند) عبد ﷲ بن رجاء، حرب، یحییٰ، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنی لیث کے ایک آدمی کوجاہلیت کے خون کے بدلے میں قتل کردیا، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ﷲ نے مکہ کو ہاتھی سے روک دیا، اور وہاں کے باشندوں پر اپنے رسول اور مومنوں کومسلط کردیا، خبردار ہوجاؤ، یہاں قتل کرنا نہ تو ہم سے قبل کسی کیلئے حلال تھا، اور نہ میرے بعد کسی کیلئے حلال ہے- سن لو دن کے صرف ایک حصے میں میرے لئے حلال ہوا، سن لو کہ اس وقت وہ پہلے کی طرح حرام ہے اسکا کوئی کانٹا نہ اکھیڑا جائے، اور نہ اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ یہاں کی گری پڑی ہوئی چیز اٹھائی جائے مگرجو اعلان کرنے والا ہو، اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے تو اس کو دو امروں کا اختیار ہے- یا تو خون بہا دے، یا قصاص لے، اہل یمن میں سے ایک شخص جس کا نام ابوشاہ تھا، کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم یہ ہمارے لئے لکھوادیں، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوشاہ کے لئے لکھ دو، پھرقریش میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم مگر اذخر (کی اجازت) اس لئے کہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں کے لئے استعمال کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ (اچھا) سوائے اذخر کے (یعنی اسے اکھیڑ سکتے ہو) اور عبید ﷲ نے شیبان سے الفیل کے لفظ میں اس کی متابعت کی ہے اور بعض نے ابونعیم سے، الفیل کا لفظ نقل کیا ہے، اور عبید ﷲ نے اما ان یقاد بعد اہل القتیل کا بیان کیا (یعنی مقتول کے وارث قصاص لیں)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment