کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
خون بہا کا بیان
باب
جس کا کوئی آدمی قتل کیا گیا تو اس کو دو امر یعنی قصاص یا دیت میں سے ایک کا اختیار ہے
حدیث نمبر
6419
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَتْ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَاصٌ وَلَمْ تَکُنْ فِيهِمْ الدِّيَةُ فَقَالَ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ کُتِبَ عَلَيْکُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَی إِلَی هَذِهِ الْآيَةِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَالْعَفْوُ أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ قَالَ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ أَنْ يَطْلُبَ بِمَعْرُوفٍ وَيُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ
قتیبہ بن سعید، عمرو، مجاہد، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں قصاص تھا اور دیت کا دستور نہ تھا، ﷲ نے اس امت کے لئے فرمایا ہے ﴿کُتِبَ عَلَيْکُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَی إِلَی هَذِهِ الْآيَةِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْئٌ﴾، یعنی تم میں قتل پر قصاص فرض کیا گیا ہے- حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ عفو یہ ہے کہ قتل عمد میں خون بہا قبول کرلیا جائے، اور یہ بھی فرمایا کہ اتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ سے مراد یہ ہے کہ دستور کے مطابق طلب کرے- اور نہایت ہی اچھے طریقے سے ادا کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment