Saturday, October 1, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1732,TotalNo:6383


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
جنگ کرنے کا بیان
باب
جب کوئی شخص اپنی یا دوسرے کی بیوی پر حاکم یا لوگوں کے نزدیک زناء کی تہمت لگائے۔
حدیث نمبر
6383
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ تَکَلَّمْ قَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا قَالَ مَالِکٌ وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ مَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَی امْرَأَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ أَمَّا غَنَمُکَ وَجَارِيَتُکَ فَرَدٌّ عَلَيْکَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، عبید ﷲ بن عبد ﷲ بن عتبہ بن مسعود، ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ زید بن خالد سے روایت کرتے ہیں کہ دوآدمیوں رسول ﷲ کی خدمت میں جھگڑتے ہوئے آئے ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کردیں، اور دوسرا جو سمجھدار تھا کہا کہ ہمارے درمیان کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، اور مجھے اجازت دیں کہ میں عرض کرو تو آپ نے فرمایا کہ بیان کر اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں مزدوری پرتھا (مالک نے کہا کہ عسیف سے مراد مزدور ہے) اس کی بیوی سے میرے بیٹے نے زنا کیا، لوگوں نے کہا میرے بیٹے کو رجم ہے میں نے سو بکریاں دے کر اور ایک لونڈی فد یہ میں دیدی، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں کتاب ﷲ کے مطابق فیصلہ کروں گا، بکریاں اور لونڈی تو تمہیں واپس کی جاتی ہیں، اور تیرے بیٹے پر سو درے اور ایک سال جلا وطنی ہے اور تم اے انیس اس کی بیوی کے پاس صبح جاؤ اگر وہ اقرار کرے تو اسکو رجم کرو اس نے اقرار کیا تو اسے سنگسار کر دیا گیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment