کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب
جنت میں ستر ہزار ( آدمی) بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔
حدیث نمبر
6112
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ح قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَأَخَذَ النَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْأُمَّةُ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ النَّفَرُ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْعَشَرَةُ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَحْدَهُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ کَثِيرٌ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ هَؤُلَائِ أُمَّتِي قَالَ لَا وَلَکِنْ انْظُرْ إِلَی الْأُفُقِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ کَثِيرٌ قَالَ هَؤُلَائِ أُمَّتُکَ وَهَؤُلَائِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ قُلْتُ وَلِمَ قَالَ کَانُوا لَا يَکْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُونَ فَقَامَ إِلَيْهِ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَکَ بِهَا عُکَّاشَةُ
عمران بن میسر ہ، ابن فضیل حصین، اسید بن زید، ہشیم، حصین سعید بن جبیر، ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں، چناچہ نبی گزرنے لگے کسی کے ساتھ ایک امت تھی، کسی کے ساتھ ایک گروہ تھا اور کسی کے ساتھ دس اور کسی کے ساتھ پانچ آدمی، اور کوئی تنہا جارہے تھے پھر میں نے نظر اٹھائی، تو ایک بڑی جماعت پر نظر پڑی تو میں نے کہا، اے جبریل یہ میری امت ہے! جبریل علیہ السلام نے کہا نہیں، افق کی طرف دیکھئے میں نے دیکھا، ایک بڑی جماعت نظر آئی، جبریل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کی امت ہے اور یہ ان کے آگے جو ستر ہزار ہیں ان کا نہ حساب ہوگا اور نہ ان پر عذاب ہوگا- میں نے پوچھا کیوں! جبریل علیہ السلام نے کہا، کہ وہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے اور نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور نہ شگون لیتے تھے اور صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے، عکاشہ بن محصن آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور عرض کیا ﷲ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان لوگوں میں بنادے آپ نے فرمایا، اے ﷲ اس کو ان لوگوں میں بنادے، پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ ﷲ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھ کو بھی ان لوگوں میں بنادے، آپ نے فرمایا کہ عکاشہ، تم سے بازی لے گیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment