کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب
جس کے حساب میں پوچھ گچھ کی گئی تو اسےعذاب ہوگا۔
حدیث نمبر
6111
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي خَيْثَمَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَيُکَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ يَنْظُرُ فَلَا يَرَی شَيْئًا قُدَّامَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ قَالَ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي عَمْرٌو عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثَلَاثًا حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِکَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
عمر بن حفص، حفص، اعمش خیثمہ، عدی بن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر آدمی سے ﷲ قیامت کے دن گفتگو فرمائے گا اس طرح کہ اس کے اور ﷲ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا پھر وہ نظر اٹھائے گا تو اپنے آگے کچھ نہیں دیکھے گا، پھراپنے سامنے نظر کرے گا، تو دوزخ اس کے سامنے آئے گی، اس لئے تم میں سے جو شخص آ گ سے بچناچاہے (تو وہ بچے) اگرچہ کھجورکے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو، اعمش بواسطہ عمر خیثمہ، عدی بن حاتم، نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ آگ سے بچو، پھر اپنامنہ پھیر لیا، اور فرمایا کہ آ گ سے بچو، پھر آپ نے منہ پھیر لیا، تین بار ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا کہ آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو اور جس شخص کو یہ میسر نہ ہو، تو اچھی باتوں کو ذریعہ (آگے سے بچے)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment