کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تقدیر کا بیان
باب
عمل خاتمے پرموقوف ہے۔
حدیث نمبر
6168
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَعْظَمِ الْمُسْلِمِينَ غَنَائً عَنْ الْمُسْلِمِينَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَهُوَ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَی الْمُشْرِکِينَ حَتَّی جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَجَعَلَ ذُبَابَةَ سَيْفِهِ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ حَتَّی خَرَجَ مِنْ بَيْنِ کَتِفَيْهِ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ وَمَا ذَاکَ قَالَ قُلْتَ لِفُلَانٍ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ وَکَانَ مِنْ أَعْظَمِنَا غَنَائً عَنْ الْمُسْلِمِينَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَمُوتُ عَلَی ذَلِکَ فَلَمَّا جُرِحَ اسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ
سعیدابن مریم، ابوغسان، ابوحازم، سہل سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ایک غزوہ میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا اور مسلمانوں کی طرف سے بہت شدت سے جنگ کر رہا تھا، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا کہ جو کوئی دوزخی آدمی کودیکھنا چاہتا ہے تو اس کو دیکھ لے، مسلمانوں میں سے ایک شخص اس کے ساتھ ہوگیا، اور وہ مشرکوں کے ساتھ سختی سے جنگ کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ زخمی ہوگیا اور جلدی سے مرنا چاہا، اس نے تلوار کی دھار اپنے سینے پر رکھ کر دبائی یہاں تک کہ وہ مونڈھوں سے نکل گئی (اور مرگیا) وہ آدمی آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ ﷲ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا کیا بات ہے اس نے عرض کیا کہ آپ نے فلاں شخص کے متعلق فرمایا تھا کہ جو کوئی دوزخی دیکھنا چاہتا ہے وہ اسکو دیکھ لے حالانکہ وہ ہم مسلمانوں کی طرف سے بہت سخت جنگ کرنے والا تھا چناچہ میں نے سمجھا تھا کہ وہ اس حالت میں نہیں مرے گا، پھر جب وہ زخمی ہوا تواس نے جلدی مرنا چاہا اور خودکشی کرلی تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے (اس بات کو سن کر فرمایا) کہ بندہ دوزخیوں کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے اور (بات یہ ہے کہ) اعمال خاتمے پرموقوف ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment