کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
باب
جنت اور دوزخ کی صفت کا بیان۔
حدیث نمبر
6135
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ هَلَکَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ غَرْبُ سَهْمٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي فَإِنْ کَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْکِ عَلَيْهِ وَإِلَّا سَوْفَ تَرَی مَا أَصْنَعُ فَقَالَ لَهَا هَبِلْتِ أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ إِنَّهَا جِنَانٌ کَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَی وَقَالَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِکُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَی الْأَرْضِ لَأَضَائَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَنَصِيفُهَا يَعْنِي الْخِمَارَ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
قتیبہ، اسمعیل بن جعفر، حمید، حضرت انس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ حضرت حارثہ کی والدہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور حضرت حارثہ جنگ میں ایک تیر سے شہید ہوگئے انہوں نے عرض کیا کہ رسول ﷲ آپ حارثہ کا مقام میرے دل میں جانتے ہیں اگر وہ جنت میں ہوگا تو میں اس پر نہ روؤں گی ورنہ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے فرمایا کہ احمق کیاجنت ایک ہی ہے؟ جنتیں تو بہت سی ہیں وہ فردوس اعلی میں ہوگا۔اور فرمایا کہ ﷲ کی راہ میں صبح کو یا شام کو چلنا دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اور جنت میں ایک قدم برابر یا کمان کے فاصلہ کے برابر جگہ دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے اگرجنتی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا کی طرف جھانک کردیکھے تو ساری زمین روشن ہوجائے، اور خوشبو بکھر جائے اور جنت کی اوڑھنی دنیا اور اس کے اندر کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment