کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
6789
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ حِينَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ وَالنَّاسُ قِيَامٌ وَهِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَائِ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقُلْتُ آيَةٌ قَالَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْئٍ لَمْ أَرَهُ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّی الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُسْلِمُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ جَائَنَا بِالْبَيِّنَاتِ فَأَجَبْنَاهُ وَآمَنَّا فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا عَلِمْنَا أَنَّکَ مُوقِنٌ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ
عبد ﷲ بن مسلمہ، مالک، ہشام بن عروہ، فاطمہ بن منذر، اسماء بنت ابی بکر سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں حضرت عائشہ کے پاس آئی اس وقت سورج میں گرہن لگا تھا اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے اور وہ بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں میں نے کہا کہ لوگ یہ کیا کر رہے ہیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا سبحان ﷲ میں نے پوچھا کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اشارہ سے کہا کہ ہاں جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ﷲ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میں نے اس جگہ میں نہ دیکھی ہو یہاں تک کہ جنت و دوزخ بھی اور میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ تم لوگ قبروں میں دجال کے فتنوں کے قریب کے زمانہ میں آزمائے جاؤ گے مومن یا مسلم (حضرت اسماء کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں مومن یا مسلم فرمایا) کہے گا کہ محمد صلی ﷲ علیہ وسلم ہمارے پاس احکام لے کر آئے ہم نے ان کو قبول کیا اور ایمان لے آئے پھر کہا جائے گا کہ آرام سے سو رہ ہم جانتے تھے کہ تو یقین رکھنے والا ہے اور منافق یا مرتاب (اسماء نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ان دونوں میں سے کیا فرمایا) کہے گا کہ میں نہیں جانتا لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تھا چناچہ وہی میں نے بھی کہہ دیا۔
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment