کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
6788
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ فَنَزَلَ عَلَی ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ وَکَانَ مِنْ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ وَکَانَ الْقُرَّائُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ وَمُشَاوَرَتِهِ کُهُولًا کَانُوا أَوْ شُبَّانًا فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ يَا ابْنَ أَخِي هَلْ لَکَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ فَتَسْتَأْذِنَ لِي عَلَيْهِ قَالَ سَأَسْتَأْذِنُ لَکَ عَلَيْهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاسْتَأْذَنَ لِعُيَيْنَةَ فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَاللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ وَمَا تَحْکُمُ بَيْنَنَا بِالْعَدْلِ فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّی هَمَّ بِأَنْ يَقَعَ بِهِ فَقَالَ الْحُرُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنْ الْجَاهِلِينَ وَإِنَّ هَذَا مِنْ الْجَاهِلِينَ فَوَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا عَلَيْهِ وَکَانَ وَقَّافًا عِنْدَ کِتَابِ اللَّهِ
اسماعیل، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبید ﷲ بن عبد ﷲ بن عتبہ، عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر آئے اور اپنے بھتیجے حر بن قیس بن حصن کے ہاں اترے، اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو حضرت عمر اپنے قریب رکھتے تھے، اور قراء خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان عمر کی مجلس کے مشیر ہوتے تھے، عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا اے بھتیجے کیا امیرالمومنین کے یہاں تیری رسائی ہے، تو میرے لئے اجازت لے سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ عنقریب تمہارے لئے اجازت لوں گا، ابن عباس کا بیان ہے، انہوں نے عیینہ کے لئے اجازت لی، جب وہ اندر آئے تو کہا کہ اے ابن خطاب خدا کی قسم تم ہمیں نہ تو زیادہ مال دیتے ہو اور نہ ہمارے ساتھ عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو، حضرت عمر کو ان پر غصہ آ گیا یہاں تک کہ قریب تھا کہ الجھ پڑیں، تو حر نے کہا امیرالمومنین ﷲ نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ معافی کو قبول کریں اور نیکیوں کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے در گزر کیجئے، یہ شخص جاہلوں میں سے ہے، خدا کی قسم، جونہی یہ آیت حضرت عمر کے پاس پڑھی انہوں نے اس آیت کے خلاف نہیں کیا، اور کتاب ﷲ کے پاس بہت زیادہ رکنے والے تھے، (یعنی بہت زیادہ عمل کرنے والے تھے)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment