کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
توحید کا بیان
باب
اللہ تعالی کا قول،، کہ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ اس بات پر قادر ہے۔
حدیث نمبر
6886
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ کُلِّهَا کَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ إِذَا هَمَّ أَحَدُکُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْکَعْ رَکْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُکَ بِعِلْمِکَ وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ فَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ قَالَ أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِکْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ
ابراہیم بن منذر، معن بن عیسیٰ، عبدالرحمن بن ابوالمولی، محمد بن منکدر، عبدﷲ بن حسن، حضرت جابربن عبدﷲ سلمی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو تمام امور میں استخارہ کی تعلیم دی جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت نماز پڑھے، جو فرض نہ ہو (نفل ہو) پھر کہے کہ اے ﷲ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت چاہتا ہوں اور تجھ سے قدرت چاہتا ہوں، تیری قدرت کے طفیل اور تیرا فضل چاہتا ہوں، تو ہی قدرت رکھتا ہے، مجھ کو قدرت نہیں ہے، اور تو ہی علم رکھتا ہے، مجھ کو علم نہیں ہے، تو ہی غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے، یا ﷲ اگر تو جانتا ہے، کہ یہ کام (یہاں پر اپنے کام کا نام لے کر) میرے لئے فی الحال یا آئندہ کے لئے بہتر ہے، راوی نے کہا یا یوں کہا، میرے دین اور دنیا اور انجام کے لئے بہتر ہے، تو اس کو میری قسمت (مقدر) میں کر دے، اور اس کو آسان کر، پھر اس میں برکت دے، یا ﷲ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین اور دنیا اور انجام کے لئے برا ہے یا یوں فرمایا فی الحال یا آئندہ کے لئے برا ہے تو تو اس کو مجھ سے ہٹا دے اور پھر جو امر بہتر ہو جہاں ہو میرے لئے مقدر کر دے، پھر اس پرمجھ کو راضی اور خوش رکھ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment