کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
6787
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ بَعْدَهُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَکْرٍ کَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ فَإِنَّ الزَّکَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا کَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ قَالَ ابْنُ بُکَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ عَنْ اللَّيْثِ عَنَاقًا وَهُوَ أَصَحُّ ورواه الناس عناقا وعقالا ههنا لايجوز وعقالا فی حديث الشعبی مرسل وکذا قا ل قتيبة عقالا
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل، زہری، عبید ﷲ بن عبد ﷲ بن عتبہ، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے اور عرب کے چند لوگوں کو کافر ہونا تھا، ہو گئے، تو عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ لوگ جہاد کس طرح کریں گے حالانکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ لوگ لا الہ الا ﷲ کہا اس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو بجز اس کے حق کے بچا لیا اور اس کا حساب ﷲ پر ہے، حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم میں جنگ کروں گا اس شخص سے جس نے نماز اور زکوۃ میں تفریق کی اسلئے کہ زکوۃ کا مال کا حق ہے، خدا کی قسم اگر ان لوگوں نے ایک رسی بھی روکی جو وہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دیا کرتے تھے، تو میں اس کے نہ دینے والوں سے جنگ کروں گا، حضرت عمر کا بیان ہے کہ میں نے یہی خیال کیا کہ ﷲ تعالی نے حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا سینہ جنگ کے لئے کھول دیا میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے، ابن بکیر اور عبد ﷲ نے لیث، (عقال کی بجائے) عناق کا لفظ روایت کیا ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment