Wednesday, November 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2213,TotalNo:6864


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
جھگڑا کے مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر
6864
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ هَلُمَّ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ قَالَ عُمَرُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمْ الْقُرْآنُ فَحَسْبُنَا کِتَابُ اللَّهِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَکْتُبْ لَکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُومُوا عَنِّي قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الرَّزِيَّةَ کُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَکْتُبَ لَهُمْ ذَلِکَ الْکِتَابَ مِنْ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ
ابراہیم بن موسیٰ، ہشام، معمر،عبیدﷲ بن عبدﷲ ، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس وقت گھر میں بہت سے لوگ جمع تھے- جن میں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بن خطاب بھی تھے، آپ نے فرمایا کہ (لکھنے کا سامان لاؤ) میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر تکلیف کی شدت ہے اور تم لوگوں کے پاس قرآن ہے اور ہمارے لئے ﷲ کی کتاب ہی کافی ہے گھر والوں میں اختلاف ہو گیا، اور یہ لوگ جھگڑنے لگے، کوئی کہتا کہ (لکھنے کا سامان لاؤ) تاکہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تمہارے لئے تحریر لکھ دیں- جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے، اور بعض وہی کہتے جو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے، جب شور و غل اور اختلاف نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے زیادہ ہونے لگا تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ ، عبیدﷲ کا بیان ہے کہ ابن عباس کہا کرتے تھے کہ ساری مصیبت وہ چیز ہے جو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے لکھنے کے درمیان حائل ہوئی یعنی ان لوگوں کا جھگڑا کرنا اور شور و غل –



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment