کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
باب
اس امر کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منع فرماناتحریم کا سبب ہے بجز اس کے جس کا مباح ہونامعلوم ہو۔
حدیث نمبر
6865
حَدَّثَنَا الْمَکِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ البُرْسَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ قَالَ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ عُمْرَةٌ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ وَقَالَ أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا مِنْ النِّسَائِ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَکِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّا نَقُولُ لَمَّا لَمْ يَکُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَی نِسَائِنَا فَنَأْتِي عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاکِيرُنَا الْمَذْيَ قَالَ وَيَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ هَکَذَا وَحَرَّکَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاکُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُکُمْ وَأَبَرُّکُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ کَمَا تَحِلُّونَ فَحِلُّوا فَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
مکی بن ابراہیم، ابن جریج عطاء، حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں (دوسری سند) امام بخاری بواسطہ محمد بن بکر، ابن جریج، عطاء سے روایت کرتے ہیں میں نے جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ اور اس وقت ان کے ساتھ کچھ لوگ اور بھی تھے- انہوں نے کہا کہ ہم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا اس کے ساتھ عمرے کی نیت نہ کی تھی، عطاء کا بیان یہ کہ جابر نے کہا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو مدینہ تشریف لائے جب ہم لوگ آئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ احرام کھول دیں اور فرمایا کہ احرام کھول ڈالو، اور بیویوں کے پاس جاؤ ، عطاء کا بیان ہے کہ حضرت جابر نے کہا کہ آپ نے ان لوگوں پر فرض نہیں کیا بلکہ عورتیں مردوں کے لئے حلال کر دی گئیں- نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ ہم لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جبکہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں آپ ہم لوگوں کو اجازت دیتے ہیں کہ ہم اپنی بیویوں سے صحبت کریں اور ہم عرفہ اس حال میں پہنچے گے کہ ہمارے ذکر سے مذی ٹپک رہی ہو گی، عطاء کا بیان ہے کہ جابر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس کو ہلاتے ہوئے کہا کہ یہ سن کر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ میں ﷲ سے تم میں سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، زیادہ سچا اور زیادہ نیک و کار ہوں، اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں احرام کھول دیتا، جیسا کہ تم کھول رہے ہو، لہذا تم احرام کھول ڈالو، اگر مجھے پہلے سے وہ معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں قربانی کاجانور نہ لاتا، چناچہ ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے سنا اور اطاعت کی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment